سینیٹ میں تلخ کلامی شیری رحمان،ناصر بٹ میں سخت جملوں کا تبادلہ ، ، پیپلزپارٹی کا واک آئوٹ
اسلام آباد(بیورو رپورٹ) سینیٹ کی کارروائی کے دوران پیپلزپارٹی کی سینٹر شیری رحمان اور ن لیگ کے ناصر بٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ،پیپلزپارٹی سینیٹ سے واک آوٹ کر گئی ، سینیٹ نے شیری رحمان کا پیش کردہ پلاسٹک بک کورز پر پابندی کے قانون میں ترمیم کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا ، شیری رحمان نے بل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کی بعض بڑی دکانوں پر اب بھی کتابوں پر پلاسٹک کور کا استعمال جاری ہے ،انہوں نے کہا کہ اس نئی ترمیم کا بنیادی مقصد پلاسٹک بک کورز سے متعلق قانونی ابہام کو دور کرنا ہے، اب اسلام آباد میں کتابوں پر ہر قسم کے پلاسٹک کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی اور اس حوالے سے کسی بھی شخص کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا،اجلاس میں شیری رحمان اور ناصر بٹ میں تلخ کلامی ہوئی جس پر شیری رحمان ایوان سے چلی گئیں، ان کے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین بھی ایوان سے نکل گئے،سینیٹر اعظم خان سواتی نے ایوان میں کہا کہ میں جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کا جنازہ پڑھ کر آرہا ہوں، ان کے بارے میں سنا ہے وہ بڑے اصول پسند انسان تھے، یہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چلے گا تو ملک آگے چلے گا،سینیٹ میں ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کروائی گئی، اِس وقت اجلاس میں حکومتی بینچوں پر صرف دو ارکان بیٹھے ہوئے تھے ،بعدازاں نجی ہسپتالوں میں مریضوں سے من مانے اخراجات کی وصولی، پوشیدہ چارجز اور علاج سے پہلے ایڈوانس رقم طلب کرنے کی روک تھام کے لیے بل سینیٹ سے منظور کر لیا گیا۔ اسلام آباد کنزیومر پروٹیکشن ترمیمی بل 2026 کے تحت نجی ہسپتالوں، کلینکس اور لیبارٹریز کو کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کے دائرے میں لانے کی منظوری دی گئی۔بل کے متن کے مطابق جان بچانے والے ہنگامی علاج سے پہلے مریض سے کسی بھی قسم کی پیشگی رقم یا ایڈوانس ڈیپازٹ طلب نہیں کیا جا سکے گا۔ ہر مریض کو ٹیسٹ، ادویات اور طبی طریقہ علاج کی الگ الگ قیمتوں پر مشتمل تفصیلی بل دینا بھی ضروری ہوگا۔