پاکستان کے آل راؤنڈر شاداب خان نے انگلینڈ کے خلاف یادگار اننگز کھیل کر ون ڈے کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔
انہوں نے آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 96 گیندوں پر ناقابلِ شکست 113 رنز بنائے اور حارث رؤف کے ساتھ دسویں وکٹ پر 89 رنز کی ریکارڈ شراکت قائم کرکے پاکستان کو ایک وکٹ سے کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔مشکل صورت حال میں شاداب خان نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور آخری وکٹ پر حارث رؤف کے ساتھ مل کر ٹیم کو ہدف تک پہنچایا۔ ان کی سنچری اور حارث رؤف کے ساتھ شراکت اس مقابلے کے یادگار لمحات میں شامل ہوگئی۔
آخری وکٹ پر سنسنی خیز مقابلہ
میچ کے آخری مرحلے میں ایک موقع ایسا آیا جب انگلینڈ کی ٹیم کو فتح کی امید پیدا ہوگئی۔ پاکستان کو جیت کے لیے مزید 21 رنز درکار تھے کہ انگلش بولر گس ایٹکنسن نے شاداب خان کے خلاف یارکر گیند کی، جس پر امپائر نے انہیں ایل بی ڈبلیو قرار دے دیا۔اس فیصلے کے بعد پاکستانی ٹیم کی مشکلات بڑھتی دکھائی دینے لگیں، تاہم ریویو لینے کے بعد صورت حال بدل گئی۔ الٹرا ایج میں گیند کے بیٹ سے معمولی رابطے کا اشارہ ملا، جس کے بعد شاداب خان کو ناٹ آؤٹ قرار دے دیا گیا۔یہ فیصلہ پاکستان کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا، کیونکہ شاداب کریز پر موجود رہے اور ٹیم کی جیت کی امیدیں برقرار رہیں۔
حارث رؤف کے مشورے نے میچ کا رخ بدل دیا
اس واقعے کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ شاداب خان اور نان اسٹرائیکر پر موجود حارث رؤف کو ابتدا میں اندازہ نہیں تھا کہ گیند بیٹ سے لگی ہے۔ دونوں مایوسی کے عالم میں انگلش کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے اور واپس جانے لگے تھے۔اسی دوران حارث رؤف نے شاداب کو ریویو لینے کا مشورہ دیا۔ ریویو کے نتیجے میں امپائر کا فیصلہ تبدیل ہوگیا اور شاداب خان کو کھیل جاری رکھنے کا موقع مل گیا۔یہ لمحہ میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا، کیونکہ شاداب کی وکٹ گرنے کی صورت میں پاکستان کی جیت مزید مشکل ہوسکتی تھی۔
حارث رؤف نے آخری وکٹ پر شاداب کا بھرپور ساتھ دیا
دسویں وکٹ پر 89 رنز کی شراکت میں حارث رؤف نے اگرچہ 19 گیندوں پر ناقابلِ شکست 7 رنز بنائے، لیکن ان کا کردار محض رنز بنانے تک محدود نہیں تھا۔ انہوں نے شاداب خان کا ساتھ دیتے ہوئے اپنی وکٹ محفوظ رکھی اور انہیں کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔آخری وکٹ پر طویل شراکت قائم کرنا ون ڈے کرکٹ میں ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ایک وکٹ گرنے سے پوری اننگز ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے میں حارث رؤف کا کریز پر موجود رہنا اور شاداب کے ساتھ تعاون پاکستان کی کامیابی میں اہم ثابت ہوا۔
شاداب خان کی اننگز نے یادگار فتح ممکن بنائی
شاداب خان کی ناقابلِ شکست سنچری نے نہ صرف پاکستان کو مشکل صورت حال سے نکالا بلکہ انگلینڈ کے خلاف مقابلے کو بھی یادگار بنا دیا۔ ان کی بیٹنگ، حارث رؤف کی ثابت قدمی اور فیصلہ کن موقع پر کامیاب ریویو نے پاکستان کو ایک وکٹ سے فتح دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔