کراچی: کلفٹن کے ساحل پر نایاب نسل کا سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ہے۔
اولیو ریڈلے نسل سے تعلق رکھنے والے اس کچھوے کی ہلاکت کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی، تاہم خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ سمندر میں یا کسی جال میں پھنسنے کے باعث ہلاک ہوا۔اولیو ریڈلے سمندری کچھوے بحیرہ عرب میں پائے جاتے ہیں اور طویل فاصلے تک سمندری سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماضی میں یہ کچھوے پاکستان کے ساحلی علاقوں میں بڑی تعداد میں دیکھے جاتے تھے، تاہم اب ان کی موجودگی میں نمایاں کمی کی اطلاعات ہیں۔
اولیو ریڈلے کچھووں نے پاکستانی ساحلوں کا رخ کم کردیا
سمندری حیات سے متعلق معلومات کے مطابق اولیو ریڈلے نسل کے کچھوے ماضی میں افزائشِ نسل کے لیے کراچی سمیت پاکستان کے مختلف ساحلی علاقوں کا رخ کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً 20 سال قبل یہ کچھوے پاکستانی ساحلوں پر بڑی تعداد میں پائے جاتے تھے، لیکن اب ان کی آمد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق سمندری آلودگی، ماہی گیری کے جال اور قدرتی مسکن کو لاحق خطرات سمندری حیات کے لیے سنگین مسائل بن سکتے ہیں۔ تاہم کلفٹن کے ساحل پر مردہ ملنے والے کچھوے کی ہلاکت کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
جیوانی کے قریب دو کچھوے جال سے نکال کر سمندر میں چھوڑ دیے گئے
حالیہ دنوں میں جیوانی کے قریب ماہی گیروں کے جال میں پھنسنے والے اولیو ریڈلے نسل کے دو کچھووں کو بحفاظت نکال کر دوبارہ سمندر میں آزاد کردیا گیا تھا۔یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماہی گیری کے دوران سمندری کچھوے غیر ارادی طور پر جال میں پھنس سکتے ہیں، جس سے ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
اولیو ریڈلے کچھوے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں
اولیو ریڈلے نسل کے کچھوے سمندر میں ہزاروں میل کا سفر طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں ایک کچھوے پر جی پی ایس ٹیگ لگا کر اس کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ٹیگ لگنے کے بعد اس کچھوے نے پورا بحیرہ عرب عبور کیا اور افزائشِ نسل کے لیے عمان میں قیام کیا۔سمندری حیات کے تحفظ سے وابستہ حلقوں کے مطابق پاکستان میں بھی اس نوعیت کی تحقیق کی ضرورت ہے، تاکہ ان کچھووں کی نقل و حرکت، افزائشِ نسل کے مقامات اور پاکستانی ساحلوں پر ان کی آمد میں کمی کی وجوہات کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔
سمندر میں پلاسٹک اور کچرا سمندری حیات کے لیے خطرہ
کلفٹن کے ساحل پر کچھوے کی ہلاکت پر فشرمین سجاگ فورم نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔فورم کے چیئرمین کے مطابق سمندر میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور دیگر کچرا سمندری حیات کی بقا کے لیے خطرہ ہیں۔ سمندری آلودگی نہ صرف کچھووں اور دیگر آبی جانوروں کو متاثر کرسکتی ہے بلکہ سمندری ماحول کے قدرتی توازن کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سمندری حیات کا تحفظ اور ماہی گیروں کے روزگار کے مواقع برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے سمندر کو کچرے سے پاک رکھنے، آبی جانوروں کے تحفظ اور ماہی گیری کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت پر توجہ دینا ہوگی۔