لاہور میں فضائی آلودگی کی صورتحال تشویش ناک ہوگئی، شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر آگیا۔
شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 199 ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث فضا کو صحت کے لیے مضر قرار دیا جا رہا ہے۔فضائی آلودگی کے اعداد و شمار کے مطابق لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح میں نمایاں فرق دیکھا گیا ہے۔ علامہ اقبال ٹاؤن میں ایئر کوالٹی انڈیکس 299 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برکی روڈ پر یہ شرح 263 اور سول سیکرٹریٹ کے علاقے میں 244 رہی۔ ان اعداد و شمار کے مطابق بعض علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح شہر کی مجموعی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث شہریوں، خصوصاً بچوں، بزرگوں اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ آلودہ فضا میں زیادہ دیر تک رہنے سے آنکھوں میں جلن، گلے میں خراش، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری جیسی شکایات پیدا ہوسکتی ہیں۔دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں موجودہ درجہ حرارت 22 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری جبکہ کم سے کم 17 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں ہوائیں 3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں، جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 64 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران لاہور میں بارش کا کوئی امکان ظاہر نہیں کیا گیا۔بارش نہ ہونے اور ہوا کی رفتار کم رہنے کے باعث فضائی آلودگی میں فوری کمی کے امکانات محدود ہوسکتے ہیں، تاہم آلودگی کی اصل صورتحال موسمی حالات اور آلودگی کے اخراج سمیت مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ فضائی آلودگی کے دوران غیرضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، بالخصوص آلودگی کی زیادہ شرح والے علاقوں میں احتیاط برتیں۔ باہر جاتے وقت مناسب حفاظتی ماسک استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو کھلی فضا میں سخت جسمانی سرگرمیوں سے دور رکھیں۔