سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ زمین سیارہ انسان کا نہیں ہے ، انسان اس زمین کا ایلین ہے ۔ڈاکٹر ایلیس سِلور نے اپنی کتاب میں تہلکہ خیز دعوی کیا ہے کہ انسان اس سیارے زمین کا اصل رہائشی نہیں ہے بلکہ اسے کسی دوسرے سیارے پر تخلیق کیا گیا اور کسی وجہ سے اس کے اصل سیارے سے اس کے موجودہ رہائشی سیارے زمین پر پھینک دیا گیا۔ان کی کتاب انسان زمین سے نہیں ہیں: ثبوت کی سائنسی تشخیص میں اس خیال کی مزید وضاحت ملتی ہے۔ ڈاکٹر ایلس سلور نے اس کتاب میں 17وجوہات پیش کی ہیں کہ انسان اس سیارے پر رہنے کیلئے کیوں موزوں نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ وجوہات ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارا اصل تعلق کسی دوسرے سیارے سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ زمین ایک نوع کے طور پر ہماری کچھ ضروریات پوری کرتی ہے، لیکن یہ ہمارے لیے اتنی موزوں نہیں جتنا ہمیں یہاں لانے والوں نے ابتدا میں سوچا تھا۔
اس ضمن میں سلور زمین پر رہنے کیلئے ہماری غیر موزونیت کی چند مثالیں بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان سورج کی روشنی کی زیادہ مقدار اچھی طرح برداشت نہیں کرتے، حالانکہ ہمیں روزانہ اس کا سامنا ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں بڑی تعداد میں لوگوں کے دائمی کمر درد کو اس خیال کی دلیل قرار دیتے ہیں کہ ہمارا اصل تعلق کم کششِ ثقل والے سیارے سے ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری حیاتیاتی ترتیب چوبیس گھنٹے کے بجائے پچیس گھنٹے کے دن کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے زیادہ موزوں ہے۔
سلور یہ امکان بھی پیش کرتے ہیں کہ ہم الفا سینٹوری (ستاروں کا نظام)سے آئے ہوں۔ ان کے مفروضے کے مطابق ممکن ہے ہمارے آبائی سیارے کو کسی تباہ کن واقعے کا سامنا کرنا پڑا ہو اور چند باشندے وہاں سے بچ کر زمین پر آنے میں کامیاب ہوئے ہوں۔کتاب میں مجموعی طور پر تیرہ اہم مفروضے اور 17/عوامل شامل ہیں، جن کی بنیاد پر سلور انسان کے غیر ارضی تعلق کا خیال پیش کرتے ہیں۔ اس بحث کے ساتھ وہ چند بنیادی سوالات بھی اٹھاتے ہیں: ہم یہاں کیسے پہنچے؟ ہم یہاں کب پہنچے؟ ہمارا آبائی سیارہ کیسا ہے؟ کن ستاروں کے گرد ہمارے آبائی سیارے کے گردش کرنے کا سب سے زیادہ امکان ہے؟ اگر خلائی مخلوقات موجود ہیں تو ہم ان کا پتہ کیوں نہیں لگا سکتے؟ اور کیا ہم خود اجنبی ہیں؟
اس کتاب میں ڈاکٹر ایلس سلور سائنسی برادری اور دیگر حلقوں میں موجود شواہد اور افکار کی بنیاد پر ان سوالات کے جوابات پیش کرتے ہیں۔ ان ویب سائٹس کے روابط بھی دیے گئے ہیں جہاں ان شواہد اور متعلقہ مسائل پر مزید تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ اس مختصر کتاب کا مقصد آگاہی پیدا کرنا، بحث کی حوصلہ افزائی کرنا اور قارئین سے مزید شواہد جمع کرنا ہے۔
ڈاکٹر ایلیس جو کہ ایک سائنسدان محقق مصنف اور امریکا کا نامور آرکیالوجسٹ ہے اس کی کتاب میں اس کے الفاظ پر غورکریں۔ ذہن میں رہے کہ یہ الفاظ ایک سائنسدان کے ہیں جو کسی مذہب پر یقین نہیں رکہتا۔اس کا کہنا ہے کہ انسان جس ماحول میں پہلی بار تخلیق کیا گیا اور جہاں یہ رہتا رہا ہے وہ سیارہ ، وہ جگہ اس قدر آرام دہ پرسکون اور مناسب ماحول والی تھی جسے وی وی آئی پی کہا جا سکتا ہے وہاں پر انسان بہت ہی نرم و نازک ماحول میں رہتا تھا اس کی نازک مزاجی اور آرام پرست طبیعت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنی روٹی روزی کے لئے کچھ بھی تردد نہیں کرنا پڑتا تھا ، یہ کوئی بہت ہی لاڈلی مخلوق تھی جسے اتنی لگژری لائف میسر تھی۔ ۔ وہ ماحول ایسا تھا جہاں سردی اور گرمی کی بجائے بہار جیسا موسم رہتا تھا اور وہاں پر سورج جیسے خطرناک ستارے کی تیز دہوپ اور الٹراوائلیٹ شعاعیں بالکل نہیں تھیں جو اس کی برداشت سے باہر اور تکلیف دہ ہوتی ہیں۔
تب اس مخلوق انسان سے کوئی غلطی ہوئی ۔اس کو کسی غلطی کی وجہ سے اس آرام دہ اور عیاشی کے ماحول سے نکال کر زمین سیارے پر پھینک دیا گیا تھا ۔ جس نے انسان کو اس سیارے سے نکالا تھا ۔۔۔ لگتا ہے وہ کوئی انتہائی طاقتور ہستی تھی جس کے کنٹرول میں سیاروں ستاروں کا نظام بھی تھا۔۔۔ وہ جسے چاہتا ، جس سیارے پر چاہتا ، سزا یا جزاکے طور پر کسی کو بجھوا سکتا تھا۔ وہ مخلوقات کو پیدا کرنے پر بھی قادر تھا۔ڈاکٹر سلور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے زمین کسی ایسی جگہ کی مانند تھی جسے جیل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یہاں پر صرف مجرموں کو سزا کے طور پر بھیجا جاتا ہو۔ کیونکہ زمین کی شکل ۔۔ کالا پانی جیل کی طرح ہے ۔۔۔ خشکی کے ایک ایسے ٹکڑے کی شکل جس کے چاروں طرف سمندر ہی سمندر ہے ، وہاں انسان کو بھیج دیا گیا۔ڈاکٹر سلور ایک سائنٹسٹ ہے جو صرف مشاہدات کے نتائج حاصل کرنے بعد رائے قائم کرتا ہے ۔ اس کی کتاب میں سائنسی دلائل کا ایک انبار ہے جن سے انکار ممکن نہیں۔اس کے دلائل کی بڑی بنیاد جن پوائنٹس پر ہے ان میں سے چند ایک ثابت شدہ یہ ہیں۔
1۔ زمین کی کش ثقل اور جہاں سے انسان آیا ہے اس جگہ کی کشش ثقل میں بہت زیادہ فرق ہے ۔ جس سیارے سے انسان آیا ہے وہاں کی کشش ثقل زمین سے بہت کم تھی ، جس کی وجہ سے انسان کے لئے چلنا پھرنا بوجہ اٹھا وغیرہ بہت آسان تھا۔ انسانوں کے اندر کمر درد کی شکایت زیادہ گریوٹی کی وجہ سے ہے ۔
2؛انسان میں جتنے دائمی امراض پائے جاتے ہیں وہ باقی کسی ایک بھی مخلوق میں نہیں جو زمین پر بس رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایلیس لکھتا ہے کہ آپ اس روئے زمین پر ایک بھی ایسا انسان دکھا دیجئیے جسے کوئی ایک بھی بیماری نہ ہو تو میں اپنے دعوے سے دستبردار ہوسکتا ہوں جبکہ میں آپ کو ہر جانور کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ وقتی اور عارضی بیماریوں کو چھوڑ کر کسی ایک بھی مرض میں ایک بھی جانور گرفتار نہیں ہے ۔(جاری ہے)