کھیلوں کی دنیا: بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری پانچ میچوں کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سیریز میں بیٹرز نے جارحانہ بیٹنگ کے ذریعے کرکٹ شائقین کو حیران کردیا۔
چار میچوں میں دونوں ٹیموں نے صرف 918 گیندوں پر مجموعی طور پر 98 چھکے لگائے، جس کے ساتھ یہ مردوں کی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین رنز بنانے والی دوطرفہ سیریز بن گئی۔اس سیریز میں بیٹرز کا مجموعی اسٹرائیک ریٹ بھی غیر معمولی طور پر بلند رہا۔بھارت اور ویسٹ انڈیز کے بیٹرز نے سیریز کے ابتدائی چار مقابلوں میں مسلسل جارحانہ انداز اپنایا۔ ویسٹ انڈیز نے اب تک 57 جبکہ بھارت نے 41 چھکے لگائے۔ دونوں ٹیموں نے مجموعی طور پر 800 سے زیادہ رنز بھی اسکور کیے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیریز میں بیٹنگ کا معیار اور رنز بنانے کی رفتار کتنی بلند رہی۔
تیسرے میچ میں ویسٹ انڈیز کی دھواں دار کامیابی
سیریز کے تیسرے میچ میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 249 رنز کا بڑا مجموعہ بنایا۔ جواب میں ویسٹ انڈیز نے شاندار تعاقب کرتے ہوئے 18.3 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 252 رنز بنا لیے اور چھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔اس میچ میں ویسٹ انڈیز کے بیٹرز نے بھارتی بولرز پر بھرپور دباؤ برقرار رکھا اور بڑے ہدف کو مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرکے سیریز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
چوتھے میچ میں شائے ہوپ کی ناقابلِ شکست سنچری
حیدرآباد میں کھیلے گئے چوتھے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ویسٹ انڈیز کے کپتان شائے ہوپ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 50 گیندوں پر ناقابلِ شکست 102 رنز بنائے۔ ان کی اننگز کی بدولت ویسٹ انڈیز نے تین وکٹوں کے نقصان پر 247 رنز اسکور کیے۔بھارتی ٹیم ہدف کے تعاقب میں 223 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جبکہ ویسٹ انڈیز نے 24 رنز سے کامیابی حاصل کی۔ اس فتح کے ساتھ مہمان ٹیم نے پانچ میچوں کی سیریز 2-2 سے برابر کردی۔
فیصلہ کن میچ پر شائقین کی نظریں
سیریز کا پانچواں اور آخری میچ 17 اکتوبر کو بنگلورو میں شیڈول ہے، جس میں دونوں ٹیموں کے پاس سیریز اپنے نام کرنے کا موقع ہے۔ چار میچوں کے بعد مقابلہ برابر ہونے کے باعث فیصلہ کن میچ کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔تاہم بنگلورو میں بارش کی پیش گوئی کے باعث میچ کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔