ٹرمپ نے روس کے خلاف نئی پابندیاں عارضی طور پر روک دیں، فیصلے کو قومی مفاد قرار دے دیا

ٹرمپ نے روس کے خلاف نئی پابندیاں عارضی طور پر روک دیں، فیصلے کو قومی مفاد قرار دے دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے خلاف نئی وسیع اقتصادی پابندیوں اور تجارتی محصولات کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق صدر نے یہ فیصلہ امریکی قومی مفاد کے تحت کیا اور اس حوالے سے کانگریس کو باضابطہ تحریری اطلاع بھی دی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ اقدام 16 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے صدارتی حکم کے ذریعے کیا گیا۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور روس سے ڈیزل کی خریداری کے معاملے پر بھی سیاسی بحث جاری ہے۔

لنڈسے گراہم ایکٹ کے تحت پابندیوں کا منصوبہ
روس کے خلاف نئی پابندیوں کا تعلق لنڈسے او گراہم ایکٹ برائے روس و ایران 2026 سے ہے، جس پر صدر ٹرمپ نے 18 ستمبر 2026 کو دستخط کیے تھے۔ اس قانون کا مقصد روسی معیشت اور ان شعبوں پر دباؤ بڑھانا تھا جن سے یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے لیے مالی وسائل حاصل ہوتے ہیں۔قانون کے تحت روسی حکام، بینکوں، توانائی کے شعبے اور روسی تیل کی ترسیل میں معاونت کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف اقدامات کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ روسی خام تیل اور قدرتی گیس کے بڑے خریدار ممالک پر بعض شرائط کے تحت 100 فیصد تک اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار بھی شامل تھا۔

پابندیوں پر عارضی چھوٹ کیسے دی گئی؟
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے قانون میں موجود اختیار استعمال کرتے ہوئے پابندیوں، بعض تجارتی محصولات اور دیگر پابندیوں کے نفاذ سے عارضی چھوٹ دی ہے۔ صدر نے کانگریس کو مطلع کیا کہ اس وقت یہ چھوٹ امریکی قومی مفاد میں ہے۔صدارتی حکم کے مطابق یہ چھوٹ اس وقت تک برقرار رہ سکتی ہے جب تک صدر یا متعلقہ اعلیٰ حکام یہ فیصلہ نہ کریں کہ مزید کارروائی ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی پابندیوں کا نفاذ مؤخر کیا گیا ہے، جبکہ روس کے خلاف پہلے سے نافذ بعض دیگر امریکی پابندیاں خودبخود ختم نہیں ہوئیں۔

توانائی کی قیمتیں اور روس سے ڈیزل کی خریداری
ٹرمپ کے فیصلے کا ایک اہم پس منظر عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خدشات ہیں۔ امریکی صدر نے حالیہ دنوں میں روس سے ڈیزل کی خریداری کے منصوبے کی حمایت کی تھی، جس کا مقصد عالمی منڈی میں ایندھن کی دستیابی بہتر بنانے اور قیمتوں پر دباؤ کم کرنے کی کوشش بتایا گیا۔تاہم اس منصوبے پر امریکا اور اس کے اتحادیوں میں تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ روسی توانائی کی تجارت پر پابندیاں نرم کرنے سے ماسکو کو اضافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے، جسے وہ یوکرین کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

کانگریس اور یوکرین سے متعلق خدشات
روس کے خلاف پابندیوں کے قانون کی حمایت کرنے والے بعض امریکی قانون سازوں نے پابندیوں کے التوا پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ روسی معیشت اور توانائی کی آمدنی پر دباؤ برقرار رکھنا یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اہم ہے۔دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے فیصلے کو امریکی قومی مفاد سے جوڑا ہے۔ اس معاملے میں بنیادی اختلاف یہ ہے کہ آیا روسی توانائی کی تجارت میں نرمی عالمی ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے یا اس سے روس پر معاشی دباؤ کم ہونے کا خطرہ زیادہ ہے۔

عالمی منڈی پر ممکنہ اثرات
روس کے خلاف پابندیوں اور تجارتی محصولات کے نفاذ میں تاخیر سے عالمی توانائی کی تجارت اور روسی تیل و گیس خریدنے والے ممالک کے لیے پالیسی کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم اس فیصلے سے ایندھن کی قیمتوں میں فوری کمی یقینی نہیں، کیونکہ قیمتوں کا انحصار عالمی طلب، رسد، جنگی حالات اور دیگر معاشی عوامل پر بھی ہوتا ہے۔