پنجاب انفارمیشن کمیشن کے ریگولیشنز کی قانونی حیثیت ؟

 عبداللہ ملک
لاہور: سول سوسائٹی نیٹ ورک پاکستان کے صدر اور ایڈووکیٹ عبداللہ ملک نے پنجاب انفارمیشن کمیشن کے 12 نومبر 2025ء￿  کو جاری کردہ ریگولیشنز کی قانونی حیثیت اور جواز پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیف انفارمیشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان ریگولیشنز کے اجراء￿  کے قانونی اختیار اور طریقہ? کار کے بارے میں واضح اور مدلل وضاحت فراہم کی جائے۔عبداللہ ملک نے چیف انفارمیشن کمشنر، پنجاب انفارمیشن کمیشن کو ارسال کردہ اپنی شکایت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے پہلے بھی مذکورہ ریگولیشنز کی قانونی حیثیت کے بارے میں شکایت دائر کی تھی، تاہم ان کے بقول اب تک اس معاملے پر تسلی بخش وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم قانونی معاملہ ہے، جس کا جواب متعلقہ قانون کی روشنی میں دیا جانا ضروری ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013ء￿  کی کون سی مخصوص دفعہ پنجاب انفارمیشن کمیشن کو ان ریگولیشنز کی تیاری، منظوری اور اجراء￿  کا اختیار دیتی ہے؟ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ریگولیشنز کی منظوری سے متعلق اجلاس کی کارروائی، متعلقہ سرکاری دستاویزات، قانونی رائے اور دیگر ریکارڈ کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں تاکہ ان کے قانونی جواز کا جائزہ لیا جا سکے۔عبداللہ ملک کے مطابق پنجاب انفارمیشن کمیشن ایک قانونی ادارہ ہے اور اسے اپنے اختیارات آئین اور متعلقہ قانون کے مقرر کردہ دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے استعمال کرنے چاہییں۔ کوئی بھی ریگولیشن یا انتظامی اقدام بنیادی قانون سے متصادم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی قانون کی جانب سے دیے گئے اختیارات سے تجاوز کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول کسی بھی ضابطے کی قانونی حیثیت کا تعین اس کے قانونی اختیار، متعلقہ قانون سے مطابقت اور مقررہ طریقہ? کار کی پابندی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔انہوں نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اس حق کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے شفافیت، جواب دہی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں پر عمل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حقِ معلومات کے نفاذ کے ذمہ دار ادارے پر خود بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اقدامات کے قانونی جواز کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے۔عبداللہ ملک نے مطالبہ کیا کہ پنجاب انفارمیشن کمیشن مذکورہ ریگولیشنز کی قانونی حیثیت کا باقاعدہ جائزہ لے اور ان کے اجراء￿  کے لیے اختیار فراہم کرنے والی متعلقہ قانونی دفعات واضح کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر جائزے کے نتیجے میں یہ ثابت ہو کہ ریگولیشنز قانونی اختیار کے بغیر یا بنیادی قانون سے متصادم ہو کر جاری کیے گئے ہیں تو مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق انہیں واپس لینے، درست کرنے یا مناسب اصلاحی کارروائی کرنے کے اقدامات کرے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوری طرزِ حکمرانی میں شفافیت اور جواب دہی صرف عوامی اداروں کے اعلانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کے عملی اقدامات میں بھی نظر آنی چاہیے۔ حقِ معلومات کا مؤثر نفاذ عوامی احتساب، شہریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔