دو، تین سال آپ کو سمجھانے کی کوشش کی، افغانستان کو کہا کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو پناہ نہ دیں،چھپ کر وار نہیں کریں گے
صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے تو ہم اپنا حق استعمال کریں گے، افغانستان پہلے اپنے گریبان میں جھانکے پھر ہم سے سوال کرے :وزیر دفاع
اسلام آباد(آئی این پی )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان پر اسٹرائیک کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے تو ہم اپنا حق استعمال کریں گے، افغانستان پہلے اپنے گریبان میں جھانکے پھر ہم سے سوال کرے، ہمیں اگر کچھ کرنا ہوگا تو چھپ کر وار نہیں کریں گے۔ ایک انٹرویو میں دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے پاس جواب دینے کا حق حاصل ہے، کابل کو پیغام دیا گیا کہ گزشتہ دو، تین سال آپ کو سمجھانے کی کوشش کی، افغانستان کو کہا کہ ہمارے بچوں کے قاتلوں کو پناہ نہ دیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے اسٹرائیک سے متعلق کوئی مراسلہ موصول نہیں ہوا، اسٹرائیک سے متعلق ہماری طرف سے بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے محبت والا تعلق نہ بھی ہو لیکن اچھے ہمسائے والا تعلق ہونا چاہیے، افغانستان کے بھارت سے تعلقات پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر افغانستان نے دہشت گردوں سے تعاون کیا اور دہشت گردی ہوئی تو ہمیں جواب دینے کا حق ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارے ملک میں آکر دھماکے کرتے ہیں شہریوں کا خون بہایا جاتا ہے، ہمارے ملک پر دھماکے کرتے ہیں تو کیا اس وقت ان کا ضمیر نہیں جاگتا؟ افغانستان کے پاس کوئی ثبوت نہیں پھر بھی پاکستان پر الزام لگا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے تو ہم اپنا حق استعمال کریں گے، افغانستان پہلے اپنے گریبان میں جھانکے پھر ہم سے سوال کرے، ہمیں اگر کچھ کرنا ہوگا تو چھپ کر وار نہیں کریں گے۔وزیر دفاع نے کہا کہ میری امیر متقی سے ملاقات ہوئی تھی ان کو انگلش سمجھ نہیں آئی تو اردو میں بات کی اور بھائیوں کی طرح سمجھانے کی کوشش کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ تین سال ہوگئے لیکن افغانستان کی طرف سے تسلی بخش جواب نہیں آیا، ہم آج بھی مذاکرات کیلئے تیار ہیں اور آئندہ بھی مذاکرات کریں گے۔