نیٹ میٹرنگ سے ملک کی اشرافیہ فائدہ اٹھا رہی ہے: وفاقی وزیرتوانائی

نئی ریگولیشن کا اثر زیادہ آمدنی والے لوگوں پر پڑے گا ‘نیٹ میٹرنگ سے گردشی قرضہ، بجلی چوری اور دیگر کا کیا تعلق ہے؟ اویس لغاری
 اسلام آباد کے تمام بڑے سیکٹرز میں سولر پلیٹیں لگی ہوئی ہیں، بڑے سیکٹرز کے سولر صارفین کی اکثریت نیٹ میٹرنگ پر ہے:قومی اسمبلی میں اظہار خیال
اسلام آباد(آئی این پی ) وفاقی  وزیرتوانائی اویس لغاری نے  کہا ہے  نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر صارفین کی منتقلی کے فیصلے پرعمل درآمد روک دیا ہے، صنعتی صارفین کے لئے بجلی سستی کی گئی ہے، ہم نے 780 ارب کا گردشی قرضہ کم کیا ہے، نیٹ میٹرنگ سے گردشی قرضہ، بجلی چوری اور دیگر کا کیا تعلق ہے؟،نیٹ میٹرنگ سے ملک کی اشرافیہ فائدہ اٹھا رہی ہے، نئی ریگولیشن کا اثر زیادہ آمدنی والے لوگوں پر پڑے گا۔جمعرات کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے سردار اویس لغاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریگولیشنز سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں، نیٹ میٹرنگ سے متعلق ریگولیٹر نے 5 بار ریگولیشنز میں تبدیلی کی اور نیٹ میٹرنگ کے 6 سے 7 ہزار صارفین ہیں‘ اس وقت حکومت کو 8 روپے فی یونٹ بجلی مل رہی ہے، کیا نیٹ میٹرنگ سے 27 روپے یونٹ بجلی خریدنا درست ہے؟ 3 کروڑ 50 لاکھ صارفین تو نیٹ میٹرنگ پر نہیں ہیں، یہ کسی بھی طرح عوام دوست پالیسی نہیں، جن کو اعتراض ہے وہ مختلف کٹیگریز کے لوگ ہیں۔وزیرتوانائی کا کہنا ہے کہ   نئی سولر پالیسی پر تنقید ہو رہی ہے، میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں،  اس وقت سولر کا حجم 20 سے 22 ہزار میگاواٹ ہے، مجموعی حجم میں سے 6 ہزار میگاواٹ نیٹ میٹرنگ پر ہے، 7 ہزار میگاوٹ صنعتی اور 4 ہزار میگاواٹ کمرشل صارف ہیں، 12 سے 14 ہزار میگا واٹ کا نیٹ میٹرنگ سے تعلق ہے، 7 لاکھ کے قریب بجلی کے صارفین نیٹ میٹرنگ پر ہیں، اسلام آباد کے تمام بڑے سیکٹرز میں سولر پلیٹیں لگی ہوئی ہیں، بڑے سیکٹرز کے سولر صارفین کی اکثریت نیٹ میٹرنگ پر ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ریگولیشن کا اثر ان لوگوں پر پڑے گا جنہوں نے سولر میٹر لگائے ہوئے ہیں، سولر ملک کے پوش علاقوں میں لگایا گیا ہے۔