سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
قومیں ہمیشہ آسائش کے لمحوں میں نہیں بلکہ آزمائش کے اندھیروں میں پہچانی جاتی ہیں۔یہ وہ گھڑیاں ہیں جب دلوں پرمایوسی چھا جاتی ہے،آنکھوں سے خواب رخصت ہونے لگتے ہیں،اورسینے میں امیدکادیامدھم پڑجاتاہے۔ہماری تاریخ بھی ایسے موڑوں سے گزری ہے۔کبھی غلامی کے زنجیروں میں جکڑی ہوئی،کبھی تقسیم کے المیے میں،کبھی عالمی سازشوں کے نرغے میں۔آج ہم ایک ایسی آواز کی گونج میں جمع ہیں جوایک صدی پہلے بلندہوئی تھی اورآج بھی زندہ ہے۔وہ آوازہے علامہ محمد اقبال کی۔آج کا موضوع ایک ایسے شاعرِمشرق،حکیم الامت،اورمردِدرویش کے پیغام پرہے،جن کے کلام نے غلام قوم کوآزادی کاخواب دیا،اور سوئی ہوئی امت کوبیداری کی صدادی۔شاعرِمشرق،حکیم الامت،وہ مردِداناجس نے غلام قوم کوبتایاکہ اندھیروں کے بعدسویراہے، اورمایوسی کے بعدامیدکاسورج طلوع ہوتاہے مگرہربارایک آواز،ایک خواب،ایک ولولہ ہمیں اٹھاتا رہا ۔وہ آواز،وہ خواب،وہ ولولہ تھا اقبال کاپیغام:
نہیں ہے ناامیداقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرانم ہوتویہ مٹی بڑی زرخیزہے ساقی
اقبال کایہ پیغام آج بھی صدیوں کے فاصلے طے کرکے ہمیں جھنجھوڑتاہے۔یہ صرف شعرنہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے،یہ ایک صدا ہے ،ایک دعوت ہے،اورایک امیدکاچراغ ہے جومایوسی کی گھنی راتوں میں روشنی دیتاہے جوہمیں یاددلاتی ہے کہ ہماری زمین وقوم بظاہربرباد لگے لیکن اگراس پرایمان اورعمل کی بارش ہوجائے تویہی مٹی گلزاربن جاتی ہے۔اقبال نے اپنے شعرمیں مایوسی اورامیدکافرق بڑاواضح طورپربیان کیاہے۔اس لئے قرآن کہتاہے:اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،مایوس توصرف کافرہی ہوتے ہیں۔اوراقبال نے قرآن سے استفادہ کرتے ہوئے ہی یہ شعرکہا:
یعنی مایوسی ایمان کے منافی ہے۔اقبال نے بھی یہی بتایامایوسی ایک زہرہے،موت ہے۔مایوس شخص عمل چھوڑدیتاہے،خواب دیکھناچھوڑدیتاہے،اورامیدایمان کی علامت ہے۔ امید زندگی ہے۔ پرندہ انڈہ دینے کے بعد امید کے ساتھ گھونسلہ بناتا ہے، کسان بیج ڈال کر امید کے ساتھ پانی دیتا ہے۔ اگر امید نہ ہو تو زندگی رک جائے۔ اقبال کا ایمان اس حقیقت پر تھا کہ امت وقتی زوال کا شکار ہو سکتی ہے، لیکن اگر اس کے اندر ایمان، خودی اور عمل کا چراغ روشن ہو جائے تو یہ امت دوبارہ عروج پا سکتی ہے ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اقبال کشتِ ویراں کی تعبیر سے کیا مراد ہے:توکشتِ ویراں سے مرادصرف کھیت یازمین نہیں،بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی حالت ہے۔یہ استعارہ تین سطحوں پرسمجھاجا سکتاہے:
پہلامرحلہ انفرادی سطح پرکشتِ ویراں ہے۔انسان کادل ودماغ جب خوابِ غفلت میں ڈوباہو۔جب اندرسے انسان خالی ہوجائے ،نہ مقصدہو،نہ عزم،نہ خودی۔یہ بھی ایک ویران کھیت ہے،جس میں بیج توہیں لیکن پانی اورنگہداشت نہ ہونے کے باعث کچھ نہیں اگ رہا۔اقبال چاہتے ہیں کہ ہرفرداپنی خودی کوپہچانے،اپنے دل کوایمان کے پانی سے سیراب کرے،تاکہ یہ بنجرزمین دوبارہ زرخیزہو جائے۔اس لئے اقبال نے فرمایا:
خودی کوکربلنداتناکہ ہرتقدیرسے پہلے
خدابندے سے خودپوچھے،بتاتیری رضاکیاہے
اس استعارہ کی دوسری سطح پراجتماعی سطح پرکشتِ ویراں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ غلام قوم،جواپنی پہچان کھوبیٹھی ہو۔ ایک ایسامعاشرہ جہاں علم کی روشنی بجھ جائے،اتحادختم ہوجائے، اورلوگ دوسروں کے فیصلوں کے محتاج بن جائیں۔یہ ہے اجتماعی کشتِ ویراں۔
اقبال کاوژن صرف برصغیریاپاکستان تک محدودنہ تھا۔وہ امتِ مسلمہ کے اتحادکے قائل تھے۔جب وہ کشتِ ویراں کی بات کرتے ہیں تو ان کی نظر صرف ایک قوم پر نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا پر تھی، جو استعماری طاقتوں کے ہاتھوں تقسیم ہو چکی تھی کیونکہ اقبال نے اپنے زمانے میں تین بڑے صدمے دیکھے،اقبال نے اپنی آنکھوں سے ترکِ خلافت ختم ہونے کا زخم جھیلا،عربوں اور اسلامی دنیاپرسامراج کاقبضہ،ایران،افغانستان اوربرصغیرغلامی کی زنجیروں میں جکڑاہواہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم ٹوٹی ہوئی،بکھری ہوئی،یہ سب اقبال کی نظرمیں کشتِ ویراں تھے لیکن اقبال نے حوصلہ نہ ہارا۔اسی سوچ کے تحت اقبال نے کہاتھا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کرتابخاکِ کاشغر
اقبال بالکل ناامیدنہیں تھے،کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگرمسلمان اپنی جڑوں کوپہچان لیں،اپنے ایمان،علم اوراتحادکے ذریعے اٹھ کھڑے ہوں تویہ امت دوبارہ عروج حاصل کرسکتی ہے۔اقبال نے حوصلہ نہ ہارا۔وہ فرماتے ہیں:
افرادکے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفردہے ملت کے مقدرکاستارا
لیکن اقبال نے کہایہ وقتی ویرانی ہے۔اس امت کی اصل زمین بڑی زرخیزہے۔اگراس پرایمان،علم اورعمل کاپانی برسے تویہ دوبارہ سنبھل سکتی ہے۔یہی پیغام تھاکہ اگرایک ایک فرداپنی خودی پہچان لے توپوری قوم کانقشہ بدل سکتاہے۔آج ہمارے ملک اورامت کی حالت اس شعرکااہم اورتیسرااستعارہ پاکستان اورامتِ مسلمہ کے تناظرمیں کشتِ ویراںکا جائزہ لیں توغلامی، انتشار، جہالت اور بے بسی کاشکارکشتِ ویران کی طرح ہے۔کیاہم نہیں دیکھ رہے کہ اندرونی خلفشار،کرپشن،تعلیمی پسماندگی اوربیرونی دبانے ہماری کشتِ زندگی کودبوچ رکھاہے۔یوں لگتاہے جیسے ہماری زمین بنجرہوگئی ہے لیکن اقبال یاد دلاتے ہیں۔یہ بنجرزمین اصل میں بنجرنہیں ہے،بس اس میں نم نہیں رہا۔یہ نم کیاہے؟ایمان کانم،علم کانم،قربانی کانم،اتحادوغیرت کا نم،خودی کانم،قربانی کا نم،علم وعمل کانم۔جب یہ8عناصراس مٹی کومل جائیں گے تویہی بنجرکھیت دوبارہ لہلہانے لگے گا۔
تاریخ شاہدہے جب مسلمان اندلس میں داخل ہوئے توایک چھوٹی سی قوم تھی،مگراپنے ایمان اورعلم سے صدیوں تک یورپ کو قیادت دی۔جب صلاح الدین ایوبی نے حوصلہ دکھایا توبیت المقدس آزادہوا۔جب سرسید احمدخان نے تعلیم کی شمع جلائی،توتاریخ شاہدہے کہ غلام قوم کے نوجوان شعورحاصل کرنے لگے۔یہ سب اس لیے ہواکہ کسی نے کشتِ ویراں میں نم پیدا کیا۔اقبال نے ایک اور خواب دیکھاپاکستان کاخواب۔۔۔۔۔۔۔1930کے خطب الہ آبادمیں انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کیلئیایک الگ وطن ہونا چاہیے۔اس وقت لوگ ہنسے،مذاق اڑایا،کہایہ ممکن نہیں لیکن اقبال کاایمان کہتاتھا:نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے۔۔۔۔۔اوردیکھتے ہی دیکھتے وہی خواب قائداعظم کی قیادت میں حقیقت بن گیا۔
اقبال نے سب سے زیادہ امید نوجوانوں سے باندھی۔وہ باربار کہتے ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اوربھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اوربھی ہیں
یعنی نوجوان کی منزل زمین پرختم نہیں ہوتی،اس کے سامنے آسمان بھی چھوٹے ہیں۔اقبال نوجوانوں کوشاہین کہہ کرمخاطب کرتے رہے کیونکہ شاہین بلندی پررہتاہے،تیزنظر رکھتا ہے،اوردوسروں کے باسی شکارپرقناعت نہیں کرتا۔اگرنوجوان اپنی خودی پہچان لیں،وقت ضائع نہ کریں،تعلیم وہنرحاصل کریں تویہی ویران کشت سبزہ زاربن سکتاہے یعنی نوجوانوں کے سامنے امکانات کی دنیا ہے۔وہ غلامی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں،مگراگراپنی خودی کوپہچان لیں توپوری دنیاان کے قدموں میں ہوسکتی ہے۔اقبال کے نزدیک خودی اپنی اصل پہچان،ایمان قوت کاسرچشمہ اورعشقِ رسولﷺ ہی اصل زندگی ہے۔ (جاری ہے)