کاشف بٹ
لاہور میں دودھ تلف کرنے کی مہم چلی۔ خبر آئی کہ دو لاکھ لیٹر سے زائد ملاوٹ شدہ دودھ بہا دیا گیا۔ واہ واہ! قوم نے تالیاں بجائیں، فوٹو سیشن ہوئے، پریس ریلیز نکلی، اور ہم سب نے سکون کا سانس لیا کہ اب بس، اب تو ہر طرف صرف خالص دودھ ہی ملے گا۔ اگلے دن صبح جب دودھ والا آیا تو اس کے ہاتھ میں وہی پرانی بالٹی، وہی پرانا ڈنڈا، اور وہی پرانا پانی کا ڈول تھا۔
میں نے پوچھا:بھائی! کل تو دو لاکھ لیٹر دودھ ضائع ہوا، آج یہ کہاں سے لائے ہو؟وہ مسکرایا اور بولا:صاحب! کل کے نقصان کی بھرپائی آج کے دودھ سے کر رہا ہوں۔ آپ چاہیں تو خالص پانی بھی الگ دے سکتا ہوں، بغیر دودھ کے!"ہم وہ قوم ہیں جو چائے میں دودھ ڈھونڈتی ہے اور دودھ میں پانی۔ قصائی سے پوچھتے ہیں:گوشت خالص ہے؟"وہ فوراً کہتا ہے:جی بالکل خالص، بس ہڈی فری ہے۔"
سبزی والے سے پوچھیں:ٹماٹر تازہ ہیں؟"جواب ملتا ہے:جی حضور! صبح ہی رنگ کر کے رکھے ہیں۔"اور دوائی والے سے پوچھیں:یہ دوا اصلی ہے نا؟"وہ سر ہلا کر کہتا ہے:جی جی، اصلی ہے۔ البتہ اثر جعلی ہے۔"
اب سوال یہ ہے کہ خالص ملے گا کہاں سے؟ قوم جب خود ملاوٹ زدہ ہے تو چیزیں خالص کیسے ہوں گی؟ سیاستدان تقریر میں ایمان دار بن کر آتے ہیں اور اگلے دن بجٹ میں پانی ڈال دیتے ہیں۔ استاد نصاب میں پانی، ڈاکٹر نسخے میں کمیشن، صحافی خبر میں رنگ، عوام وعدے میں جھوٹ۔یعنی ہم سب ایک بڑے دیگچے میں ہیں جس میں ملاوٹ، نمک مرچ اور پانی حسبِ ذائقہ ڈال دیا گیا ہے۔ اسلام نے ہمیں خلوص سکھایا تھا مگر ہم نے اسے بھی اپنے حساب سے "ری پیک" کر کے استعمال کرنا شروع کر دیا۔اصل میں یہ قوم دودھ میں تو ملاوٹ برداشت کر لیتی ہے لیکن ایمان میں نہیں! کیونکہ ایمان میں ملاوٹ "پیکیج" کہلاتی ہے۔ مثلاً جمعہ کے دن خالص مسلمان، اور باقی دن ملاوٹی کاروباری۔جب تک قانون خالص نہیں ہو گا، جرمانے فوٹو سیشن سے زیادہ کچھ نہیں۔ دو لاکھ لیٹر بہا دیں یا بیس لاکھ، فرق نہیں پڑے گا۔ کیونکہ ملاوٹ صرف دودھ میں نہیں، ہماری رگوں میں بھی بہہ رہی ہے۔
ہم وہ واحد قوم ہیں جو ملاوٹ کر کے بھی دعویٰ کرتی ہے:
"ہمارا ضمیر بالکل خالص ہے!"