آبنائے ہرمز کی حفاظت جارحوں کی شناخت چھپا کر محفوظ نہیں کی جا سکتی،کا ظم

 امریکہ اور اسرائیلی واپس چلے جائیں گے ہم نے ہمیشہ ساتھ رہنا ہے، نائب وزیرخارجہ
تہران(آئی این پی )ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی اور بین الاقوامی امور کا ظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت جارحوں کی شناخت کو چھپا کر محفوظ نہیں کی جا سکتی اور اس بات پر زور دیا کہ اس کیلئے  جارحیت کے خاتمے، جارحوں کی سزا، احتساب اور قانون کی حکمرانی کی ضرورت ہے ۔ایکس پر ایک بیان میں کاظم غریب آبادی نے آبنائے ہرمز پر بحرین کی مجوزہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کو ایران کے دو اسٹریٹجک شراکت داروں نے ویٹو کر دیا تھا انہوں نے کہا کہ حالیہ بحران نہ تو اچانک ہے اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی بندش اس کی اصل ہے بلکہ یہ براہ راست ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کے مجرمانہ حملوں کا نتیجہ ہے غریب آبادی نے کہا کہ متن کا مسودہ تیار کرنے والوں اور حامیوں نے، نظر ثانی کے بعد بھی، ایران کے خلاف جارحیت کا تذکرہ نہیں کیا بلکہ الفاظ کا ہیر پھیر کرکے ایک ہی قرارداد کوکئی بار پیش کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ قراردادمیں بحران کی اصل ذکرکرنے کی بجائے ایران کے خلاف عالمی ادارے کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایک بڑے فوجی اتحاد کے ساتھ حملہ آورہونے کی سازش تھی جسے ناکام بنایا گیا۔ ایرانی نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے اہم بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی عوامی دھمکیوںایران کو پتھر کے زمانے میں واپس لے جانے کی جیسی شرمناک باتیں کیں مگرہمارے ہمسایہ ممالک نے اس کی مذمت نہیں کی انہوں نے کہا کہ ایران نے میدان جنگ اور سفارتی محاذپر فتوحات حاصل کی ہیں سینئر سفارت کار نے زور دیا کہ جو لوگ اس طرح کے بیانیے کے حق میں ووٹ دیتے ہیں یا اسے آگے بڑھاتے ہیں وہ اب محض مبصر نہیں بلکہ باقاعدہ فریق ہیں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں پیش کی جانے والی قراردادمیں تحریف سیاسی پیچیدگی اور جارحیت ملوث ہونا ظاہرکرتی ہے۔انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت پسندوں نے جارحیت کی حقیقت اور اپنے ارتکاب جرائم کے اپنے الٹے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے علاقائی ممالک بالخصوص بحرین کو سب سے آگے دھکیل دیا ہے غریب آبادی نے خطے کے ہمسایہ ممالک کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیلی واپس چلے جائیں گے ہم اور ہمارے پڑوسیوں نے ہمیشہ ساتھ رہنا ہے۔ آبنائے ہرمز کی سلامتی جارح کے جرائم چھپانے سے نہیں ہوسکتی یہ جارحیت کو روکنے جارحین کو سزا دینے، قانون کی حکمرانی اور ان کا احتساب کرنے سے ممکن ہوگی.۔