اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بنانے پر اتفاق، مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات، اے پی سی بلانے پر بھی غور

اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بنانے پر اتفاق، مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات، اے پی سی بلانے پر بھی غور

اپوزیشن رہنماؤں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات کی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال، پارلیمنٹ کی بالادستی، اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتحاد قائم کرنے اور آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس سمیت دیگر اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔ ملاقات کا بنیادی مقصد اپوزیشن جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کرنا اور پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کا مقصد ایسا سیاسی اتحاد قائم کرنا ہے جس کے ذریعے پارلیمنٹ کو مضبوط اور جمہوری اداروں کو مستحکم بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی اور آئینی مسائل کے حل کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تمام جماعتوں کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

محمود خان اچکزئی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف مبینہ کردار کشی کی مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے خلاف ہونے والی کردار کشی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقات میں آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے بھی گفتگو کی جائے گی، جس میں ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے قومی اور سیاسی معاملات پر مشاورت کی جا سکتی ہے۔اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس نے ملک کی موجودہ سیاسی اور آئینی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر آئینی طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول موجودہ نظام کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھی گئی تھی، جس کے باعث ملک کو مختلف سیاسی اور آئینی بحرانوں کا سامنا ہے۔علامہ ناصر عباس نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں عوام کا مینڈیٹ چرایا گیا اور عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا گیا۔

 انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹ اور انتخابی مینڈیٹ کا احترام جمہوریت کی بنیادی شرط ہے، لیکن ان کے مطابق عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جا رہا۔انہوں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے سے متعلق بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کو نظر انداز کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، جو ملک میں سیاسی بے چینی اور آئینی پیچیدگیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی مضبوطی کے لیے اس کے آئینی اداروں کا آزادانہ اور مؤثر انداز میں کام کرنا ضروری ہے۔ جس ملک میں ادارے اپنا وجود اور کردار کھو دیں، وہ تباہی کی طرف چلا جاتا ہے۔