سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
رائٹرزکی آٹھ اکتوبر2026 کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے کہاکہ امریکانومبرکے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پرحملہ نہیں کرے گااورایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت کادعوی کیا،اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔اسی رپورٹ میں رائٹرز/اِپسوس کے ایک سروے کاحوالہ دیاگیاجس میں60فیصد امریکیوں نے ایران سے متعلق ٹرمپ کے طرزِعمل کوشدیدناپسندکیا۔
یہ اختلاف ظاہرکرتاہے کہ کسی ملک کی حکومت کامقف لازماًاس کے تمام شہریوں کی رائے نہیں ہوتا۔اسی طرح کسی ریاست کے خلاف مزاحمت کرنے والے ہرفردکوخودبخودحق پر قرارنہیں دیاجاسکتا۔اخلاقی معیارسب کیلئے یکساں ہوناچاہیے۔تاہم اس تنوع کے باوجودعالمی نظام کی ایک بڑی کمزوری برقرارہے:احتجاج اورمذمت ہمیشہ عملی نتائج پیدانہیں
کرتے۔انسانی حقوق کی رپورٹ شائع ہوسکتی ہے،لیکن متاثرین کوانصاف برسوں تک نہ ملے۔جنگ بندی کامطالبہ کیاجاسکتاہے،لیکن اس پرعمل درآمدکیلئے مؤثرسیاسی دباؤ موجود نہ ہو۔دنیاکو صرف آوازاٹھانے والے رہنماؤں کی ضرورت نہیں،بلکہ ایسے اجتماعی نظام کی ضرورت ہے جوان آوازوں کوقابلِ عمل فیصلوں میں تبدیل کرسکے۔
اسلامی تعلیمات میں انسانی جان کی حرمت،عدل اورظلم کے خلاف گواہی کوبنیادی حیثیت حاصل ہے۔قرآنِ اہلِ ایمان کوہدایت دیتاہے کہ کسی قوم کی دشمنی بھی انہیں انصاف سے نہ ہٹائے(المائدہ:8)۔یہ اصول جنگ اورامن دونوں میں اخلاقی رہنمائی فراہم کرتاہے۔اس تعلیم کا مطلب یہ ہے کہ ہم فلسطینیوں پرہونے والے مظالم کی مذمت کریں تو اسرائیلی شہریوں کے قتل کوبھی درست نہیں کہہ سکتے۔ہم ایران پر غیرمتناسب یاغیر قانونی حملوں کے خلاف آوازاٹھائیں توایران کی جانب سے شہریوں پرحملوں کوبھی نظر اندازنہیں کرسکتے۔انصاف انتخابی وفاداری کانام نہیں؛انصاف وہ معیارہے جواپنے پسندیدہ فریق کے خلاف بھی قائم رہے۔
علامہ محمد اقبالؒ کی فکر میں خودی کاتصورمحض انفرادی قوت یاقومی غرورنہیں،بلکہ اخلاقی شعور،ذمہ داری اورمقصدیت سے جڑاہوا ہے۔ایک زندہ قوم اپنی طاقت کودوسروں کی تحقیر کیلئے نہیں،اپنے اصولوں کے تحفظ اورانسانیت کی خدمت کیلئے استعمال کرتی ہے۔پاکستان جیسے ملک کیلئے اس بحران میں سب سے مؤثرکرداریہی ہوسکتاہے کہ وہ جنگ کی بجائے مذاکرات،دھمکیوں کی بجائے سفارت کاری، اورمحاذ آرائی کے بجائے بین الاقوامی قانون کی حمایت کرے۔مسلم دنیاکوبھی محض جذباتی بیانات تک محدودرہنے کی بجائے مشترکہ انسانی امداد،جنگ بندی کی کوششوں اورقابلِ اعتماد ثالثی میں عملی حصہ لیناچاہیے۔اسلام کاپیغام یہ نہیں کہ طاقتورکی جگہ کسی دوسرے طاقتورکوبٹھادیاجائے۔اصل پیغام یہ ہے کہ طاقت کوعدل کے تابع کیاجائے۔اس بحران سے نکلنے کیلئے محض دوحکمرانوں کی مذمت کافی نہیں۔عالمی برادری کوچند بنیادی اقدامات پرسنجیدگی سے کام کرناہوگا۔
٭اول،تمام فریقوں کوشہریوں کے تحفظ،اندھادھند حملوں سے اجتناب اورانسانی امدادکی بلارکاوٹ فراہمی کاپابندبنانے کیلئے مؤثرسفارتی دباؤ استعمال کیاجائے۔
٭دوم،مبینہ جنگی جرائم کی آزادانہ،غیر جانبدارانہ اورشواہدپرمبنی تحقیقات کی حمایت کی جائے۔کسی فریق کواس کی طاقت،اتحادیوں یا سیاسی حیثیت کی بنیادپراحتساب سے استثنانہیں ملناچاہیے۔
٭سوم،ایران،امریکااوراسرائیل کے درمیان تنازعات کومذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے قابلِ تصدیق شرائط،علاقائی سلامتی کے انتظامات اورمستقل رابطے کے راستے قائم کیے جائیں۔
٭چہارم،غزہ کی تعمیرِ نوکوسیاسی سودے بازی کایرغمال نہ بنایاجائے۔رہائش،صحت،تعلیم،صاف پانی اورروزگارکی بحالی کیلئے ایسا منصوبہ درکارہے جس میں فلسطینی عوام کے حقوق اور مستقبل کے سیاسی اختیارکوبنیادی اہمیت حاصل ہو۔
٭پنجم،بڑی طاقتوں کواپنے فیصلوں کے انسانی اوراقتصادی نتائج کاجائزہ لینے کیلئے پارلیمانی نگرانی،آزادمیڈیااورمؤثر قانونی احتساب کو قبول کرناچاہیے۔
اورآخرمیں،عالمی نظام کی اصلاح کیلئے سلامتی کونسل کی ساخت،ویٹوکے استعمال اوربین الاقوامی فیصلوں پرعمل درآمدکے طریقوں پر سنجیدہ غورضروری ہے۔ایسانظام جس میں طاقتورریاستیں اپنے لیے الگ معیارقائم کرلیں،دیرپاامن پیدانہیں کرسکتا۔نیتن یاہواورٹرمپ کے متعلق تاریخ کیافیصلہ کرے گی،اس کاحتمی جواب ابھی ممکن نہیں تاریخ کافیصلہ محض نعروں،مخالفین کی تحریروں یاحکمرانوں کی اپنی تشہیرسے نہیں ہوتا؛وہ دستاویزات،فیصلوں،انسانی نتائج اوربعد میں سامنے آنے والے شواہدکی روشنی میں تشکیل پاتاہے۔لیکن آج بھی ایک بات واضح ہے:غزہ کے کھنڈرات،ایران میں شہری نقصانات،لبنان کی بے گھری اورعالمی معیشت پرجنگ کے دباکومحض سیاسی کامیابیوں کے اعدادوشمارسے نہیں سمجھاجاسکتا۔ان کے پیچھے انسان ہیں،خاندان ہیں،مستقبل ہیں اورایسی زندگیاں ہیں جنہیں کسی بھی سیاسی تقریرسے دوبارہ نہیں بنایاجاسکتا۔
دوافرادکی سیاست سے زیادہ بڑامسئلہ وہ عالمی نظام ہے جوچن فیصلہ سازوں کوجنگ کے ایسے راستوں پربڑھنے دیتاہے جن کے نتائج پوری دنیاکوبھگتناپڑتے ہیں۔اگرادارے طاقت کومحدودنہ کرسکیں،اگرقانون کانفاذاتحادیوں اورمخالفین کے درمیان بدلتارہے اوراگرشہریوں کی جانیں سیاسی مفادات کے مقابلے میں کم اہم سمجھی جائیں توبحران کسی ایک خطے تک محدودنہیں رہے گا۔یہ وقت کسی قوم سے نفرت کرنے،کسی مذہب کومجرم قراردینے یاکسی ایک فریق کی ہرکارروائی کوجائزٹھہرانے کانہیں۔یہ وقت اصولوں کے دفاع کا ہے ۔اسرائیلی ہو یافلسطینی،ایرانی ہویاامریکی،عرب ہویایورپیانسانی جان کی حرمت سرحدوں اورپاسپورٹوں سے بلندہے۔
تاریخ کے ایوان میں طاقتورحکمران بھی بالآخرجواب دہ ہوتے ہیں۔ان کے محلات مٹ سکتے ہیں،ان کے مجسمے گرسکتے ہیں اوران کے سیاسی نعرے وقت کی گردمیں گم ہوسکتے ہیں؛ مگران کے فیصلوں سے پیداہونے والاانسانی دکھ طویل عرصے تک زندہ رہتاہے۔ایک دن غزہ کے بچے پوچھیں گے کہ ان کے گھرکیوں تباہ ہوئے۔ایران کے خاندان پوچھیں گے کہ ان کے پیارے جنگ کی نذرکیوں ہوئے۔اسرائیلی خاندان پوچھیں گے کہ ان کے تحفظ کے وعدے انہیں مستقل امن کیوں نہ دے سکے۔اوردنیا کی نئی نسل پوچھے گی کہ جب خطرے کی نشانیاں سب کے سامنے تھیں توعالمی قیادت نے تباہی کوروکنے کیلئے کیاکیا؟اس وقت کوئی حکمران محض یہ کہہ کربری الذمہ نہیں ہوسکے گاکہ اس نے قومی مفادکادفاع کیاتھا۔قومی مفادوہ نہیں جوقوم کومسلسل جنگ میں جھونک دے؛قومی مفادوہ ہے جوشہریوں کومحفوظ زندگی،بچوں کومستقبل اورمعاشرے کوامن فراہم کرے۔دو بوڑھے ہوں یادو نوجوان،ایک ملک ہویاکئی عالمی طاقتیںاصل خطرہ عمرنہیں،بے لگام اقتدارہے؛اصل جرم اختلاف نہیں،ظلم ہے؛ اوراصل کامیابی دشمن کوتباہ کرنانہیں، انسانیت کوتباہی سے بچانا ہے۔
دنیاکوآج کسی نئے فاتح کی نہیں،ایسی قیادت کی ضرورت ہے جواپنی طاقت کے باوجودرکناجانتی ہو،اپنے مخالف کے باوجودانصاف کر سکتی ہواوراپنی سیاسی اناسے بلندہوکرانسانی جان کی حرمت کومقدم رکھتی ہو۔کیونکہ تاریخ کاسب سے بڑاسوال یہ نہیں ہوگاکہ کس نے کتنے میزائل داغے،کتنے علاقے فتح کیے یاکتنی تقریریں کیں۔تاریخ پوچھے گی:جب انسانیت تباہی کے دہانے پرکھڑی تھی،توکس نے جنگ کوہوادی،کس نے خاموشی اختیارکی،اورکس نے آگ کے سامنے کھڑے ہوکرکہابس!اب مزیدنہیں۔انسانیت کوزندہ رہنے دو۔