پنجاب حکومت کا ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اقدام

پنجاب حکومت کا ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے اقدام

لاہور: پنجاب حکومت نے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ اور فضائی آلودگی میں کمی کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے نئی سرکاری گاڑیاں پٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک وہیکلز (ای وی) خریدنے اور موجودہ سرکاری گاڑیوں کو مرحلہ وار برقی گاڑیوں پر منتقل کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

حکومتی منصوبے کے تحت سرکاری محکموں میں روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں پر انحصار کم کیا جائے گا، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دے کر ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کے ساتھ صاف اور ماحول دوست سفری سہولیات کو فروغ دینا ہے۔اس سلسلے میں وزیر ٹرانسپورٹ کو سرکاری گاڑیوں کی الیکٹرک وہیکلز پر منتقلی کے حوالے سے ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ سرکاری افسران کے زیرِ استعمال گاڑیوں کا جامع ڈیٹا بیس بھی تیار کرے گا، جس کے ذریعے گاڑیوں کی تعداد، استعمال اور منتقلی کے عمل سے متعلق ضروری معلومات جمع کی جائیں گی۔ڈیٹا بیس کی تیاری سے حکومت کو مرحلہ وار منتقلی کی منصوبہ بندی میں مدد ملے گی، جبکہ مختلف سرکاری محکموں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے گا۔ اس اقدام کے ذریعے سرکاری ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بھی کوشش کی جائے گی۔

لاہور میں 236 چارجنگ پوائنٹس قائم کرنے کی منصوبہ بندی
پنجاب حکومت نے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے لاہور میں 236 چارجنگ پوائنٹس قائم کرنے کے حوالے سے ورکنگ مکمل کر لی ہے۔ منصوبے کے تحت شہر میں چارجنگ کی سہولتوں کا نیٹ ورک تیار کرنے پر توجہ دی جائے گی تاکہ الیکٹرک گاڑیاں استعمال کرنے والے افراد کو بیٹری چارج کرنے میں آسانی ہو۔حکومت کی جانب سے چارجنگ انفراسٹرکچر کے فروغ کے لیے سبسڈی دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ اس کے علاوہ چارجنگ پوائنٹس نصب کرنے میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے خصوصی پیکیج تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔چارجنگ اسٹیشنز کے قیام سے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال میں درپیش بنیادی رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ شہر میں چارجنگ کی مناسب سہولتیں دستیاب ہونے سے شہریوں اور سرکاری اداروں کے لیے روایتی ایندھن کے بجائے برقی گاڑیوں کا انتخاب نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع
حکومتی منصوبے کے تحت لاہور میں چارجنگ پوائنٹس کی تنصیب سے نہ صرف الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے میں مدد ملے گی بلکہ اس شعبے سے متعلق کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی بھی توقع ہے۔چارجنگ اسٹیشنز کی تنصیب، دیکھ بھال اور تکنیکی خدمات کے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی سے الیکٹرک وہیکلز کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کی ترقی میں بھی مدد ملنے کا امکان ہے۔تاہم منصوبے کے عملی نتائج کا انحصار چارجنگ پوائنٹس کی تنصیب، سرمایہ کاری کے لیے مراعات، بجلی کی دستیابی اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے متعلق سہولتوں پر ہوگا۔

فضائی آلودگی میں کمی کے لیے اہم پیش رفت
پنجاب حکومت کے اس اقدام کو ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ اور پٹرولیم مصنوعات پر انحصار کم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ روایتی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیاں استعمال کے دوران دھوئیں کا اخراج نہیں کرتیں، جس سے شہری علاقوں میں ٹریفک سے پیدا ہونے والی مقامی فضائی آلودگی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔لاہور جیسے بڑے شہر میں ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والی آلودگی پر قابو پانے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا فروغ اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم اس اقدام کے مؤثر نتائج کے لیے چارجنگ انفراسٹرکچر کی توسیع، بجلی کے مؤثر استعمال اور دیگر ماحولیاتی اقدامات کو بھی ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوگا۔