بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کے دوران ایک اہم انکشاف سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے مطابق مبینہ حملہ آوروں کا ابتدائی ہدف معروف اداکار عامر خان تھے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممبئی پولیس کے تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ لارنس بشنوئی گینگ سے مبینہ تعلق رکھنے والے ملزمان کو ابتدا میں عامر خان کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔رپورٹس کے مطابق ملزمان نے اپنے مبینہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ممبئی میں تقریباً ایک ماہ قیام کیا اور اس دوران عامر خان کی رہائش گاہ کے اطراف نگرانی بھی کی۔
عامر خان کی رہائش گاہ کی تین مرتبہ نگرانی
بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے ممبئی میں قیام کے دوران عامر خان کی رہائش گاہ کے اطراف کم از کم تین مرتبہ نگرانی کی۔رپورٹس کے مطابق اداکار اپنی شوٹنگ میں مصروف رہتے تھے اور گھر سے بھی کم باہر نکلتے تھے، جس کے باعث مبینہ حملہ آوروں کو اپنے منصوبے پر عمل کرنے کا موقع نہ مل سکا۔بعدازاں ملزمان نے مبینہ طور پر اپنا ہدف تبدیل کرتے ہوئے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
ٹائیگر شروف کو کیوں ہدف بنایا گیا؟
تفتیشی ذرائع سے منسوب اطلاعات کے مطابق ملزمان نے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ اداکار اکثر اتوار کے روز ممبئی کے علاقے جوہو کے ایک پارک میں فٹبال کھیلنے آتے تھے۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان نے اداکار کی اس معمول کی سرگرمی کو اپنے مبینہ منصوبے کے لیے موزوں سمجھا۔ تاہم واقعے سے متعلق تمام تفصیلات اور دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
عامر خان کو جولائی میں مبینہ دھمکیاں موصول ہوئیں
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ عامر خان کو رواں سال جولائی میں مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔ان اطلاعات کے بعد عامر خان کو مبینہ طور پر ہدف بنانے کے معاملے نے مزید توجہ حاصل کی ہے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں دھمکیوں کی نوعیت، ان کے حوالے سے کی گئی کارروائی یا اداکار کی سکیورٹی سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
تحقیقات میں مزید پیش رفت کا انتظار
ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ انکشافات نے بالی ووڈ شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔