با رانی زراعت سے ترقی، ماحولیاتی نظریات وصنعتی نمو پر سیمینار

 ماہرین کاعام افرادکا معیارِ زندگی بہتر بنانے کیلئے مشترکہ وباہمی ترقی پر توجہ دینے پرزور 
لاہور (خصوصی رپورٹ)دی اربن یونٹ لاہور کے زیر اہتمام بارانی زراعت، صنعتی ترقی و ماحولیاتی نظریات کے موضوع پر ا ?گاہی سیمینار کا انعقاد۔ماہرین اور سٹیک ہولڈرز نے بارانی علاقوں میں پائیدار زرعی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی نمو پرتبادلہ خیال کیا۔اربن یونٹ کے جنرل منیجر (انوائرمنٹ، کلائمیٹ چینج اینڈ ڈبلیو ایس ایس)عابد حسینی نیپائیدار ترقی، ماحولیاتی پائیداری اور بارانی زراعت و صنعت کی جدت پر مکالمے کے فروغ کیلئے سیمینار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آغا خان یونیورسٹی کراچی کے فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے بانی پروفیسر سٹیفن لیون کلیدی مقرر تھے۔ اپنے خطاب میں پروفیسر لیون نے زراعت اور صنعت کے بدلتے رجحانات پر روشنی ڈالی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے ممکنہ راستوں پر اظہار خیال کیااور پاکستان کی کاوشوں کو سراہتے کہا وہ 21ویں صدی کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے۔پروفیسر لیون نے اقتصادی وسماجی ترقی میں خواتین کی شمولیت کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اسے مثبت اور ترقی پسند علامت قرار دیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پائیدار ترقی، بالخصوص بارشی پانی (رین واٹر ہارویسٹنگ )ٹیکنالوجی ناگزیر ہے، ہم مناسب دستیاب آبی وسائل کو جمع کرکے قابلِ استعمال بنانے میں بیحد مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ پروفیسر لیون نے عام لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کیلئے مشترکہ اور باہمی ترقی پر زیادہ توجہ دینے پرزور دیا جس میں اراضی اصلاحات اور مشترکہ اقتصادی اقدامات شامل ہیں۔شرکاء اور مہمانوں نے بارانی علاقوں میں زرعی ترقی کے فروغ اور رین واٹر ہارویسٹنگ کے اقدامات کو مستحکم کرنے پر حکومتِ پنجاب کے بارانی کمیشن کی کاوشوں کو سراہا۔ مکالمے کے دوران بارش پر انحصار کرنیوالے خطوں میں روزگار کے مواقع بہتر بنانے کیلئے زراعت، واٹر مینجمنٹ، انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور مقامی معاشی ترقی میں مربوط اقدامات کی افادیت کو اجاگر کیا گیا۔سیمینار میں سینئر آرکیٹیکٹ فریال گوہر، محکمہ زراعت سے سہیل الرضا، حافظ نصیر، علی حبیب اور محکمہ ماحولیاتی تحفظ ای پی اے سے عظمت ناز نے بھی شرکت کی۔ شرکاء  نے زرعی جدت، صنعتی توسیع، ماحولیاتی پائیداری اور مشترکہ اقتصادی ترقی کے حوالے سے بھرپور تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء￿  نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی اقدامات کو اس انداز میں ترتیب دیا جانا چاہیے کہ مقامی افراد بالخصوص محنت کش طبقے کو انکے ٹھوس اور جامع فوائد حاصل ہو سکیں۔