غلام علی
مجھے دفتر جانے کی جلدی تھی ۔ بارش رکنے کا نام نہ لیتی تھی ۔گھر کی کھڑکی کھلی تھی۔ باہربہت جھانکاتھا،مگر موسم بپھرا تھا۔موسم کی ادائیں، پرنالے کی شائیں شائیں باہرنکلنے نہ دیتی تھیں ۔ اپنے صاحب کی ڈانٹ کا ڈر اورفرائض منصبی کی فکر بھی تھی ، گھر کی ملکہ سے بھی جان چھڑانی تھی۔ بالآخر عام سا لباس زیبِ تن کیا،گھر کے دروازے سے باہر نکلتے پلٹ کر دیکھا تو پھول سے چہروں والے میرے بچے مجھے معصومانہ انداز سے الوداع کرنے کیلئے کھڑے تھے ۔ اُن کی چمکتی آنکھیں میرے دل کی نگری میں پدرانہ محبت کا طوفان برپا کر گئیں۔گلی میں سرد ہوا کا رقص تھا۔سبھی چہرے نکھرے نکھرے تھے ۔ اُن چہروں میںکچھ چہروںکا عکس بھی تھا۔خیر منزل کی طرف رواں ہوا تو بڑی سڑک پانی سے بھری تھی۔ گاڑیاں پانی کے اندر بند تھیں۔کچھ موٹر سائیکلوں والے تو اپنے موٹر سائیکلوں کو ککیں مارنے میں مصروف تھے اور کچھ اپنے لباس سمیٹے موٹر سائیکلوں سمیت منزل کی طرف گامزن تھے۔ دیکھا تو سٹرک کے کنارے ایک خوبصورت خوش بادہ لباس ایسا شخص کھڑا تھاجس کے پائوں میں خوبصورت بوٹ اور ہاتھ میں سفید چھڑی تھی جو اُس کے نابینا ہونے کی خبر دے رہی تھی۔ اُس شخص کو میں اکثر اپنی گلی میں اُس وقت آتے جاتے دیکھتا تھا جب وہ اپنے بیٹے کو صبح کے وقت سکول چھوڑنے جا رہا ہوتا تھا ۔ لمحہ بھر کے لئے اُس کے قریب اِس غرض سے رُکا کہ کونسا رستہ اختیار کروں؟ وہ شخص فوراً ہی مجھے کہنے لگا مجھے بھی ساتھ لیتے جائیں ، کوئی آٹو (رکشہ) ہی نہیں مل رہا۔ میں نے اُس کو انتہائی اپنائیت سے کہا کہ میرا موٹر سائیکل پرانا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آگے جا کر بند ہو جائے گا ۔ کہنے لگا کوئی بات نہیں،میں دھکا لگائوں گا۔ میں نے کہا بیٹھیں، وہ صاحب میرے ساتھ موٹر سائیکل پر بیٹھ گئے۔آغازِ سفر سے ہی بے تکلفانہ گفتگو کرنے لگے ۔ میں اُس کی باتیں سنتا جا رہا تھا اور جواب میں ’اُوں ‘’ آں‘ بھی کرتا جا رہا تھا ۔ دراصل مجھے ڈر تھا کہ موٹر سائیکل کسی بھی لمحے بند ہو سکتا ہے ۔
پھر یوں ہی ہوا کہ موٹر سائیکل اپنی حسب ِ توفیق چلا اور میری حسب ِامیدرُک گیا۔ میرا گمان ِمحکم پایہ تکمیل کو پہنچا۔صاحب کو عرض کی کہ جناب موٹر سائیکل بند ہو گیا ہے اور ہمیں اس تکلیف کو بخوشی قبول کرتے ہوئے پانی میں چلنا ہے۔زندہ دل انسان تھا فوراً اترا اور میرے ساتھ چل دیا۔میں نے اسے کہا کہ آپ موٹر سائیکل پر ہاتھ رکھ لیںتاکہ چلنے میں آسانی رہے۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ سڑک کا پانی تقریباً گھٹنوں تک تھا کہیں پر اس سے بھی زیادہ اور جب آگے سے کوئی گاڑی آتی تو اسکی وجہ سے پانی ذرا تھپڑ بھی رسیدکر جاتا تھا۔تھوڑا آگے چلے ہی تھے کہ ایک نوجوان لڑکا ایک ویگنر کار کو دھکا لگا رہا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ اکیلا لڑکا ہے اور اتنے پانی میں کار کو دھکا لگائے جا رہا ہے ۔بے چارہ تھک گیا ہو گا۔ یہ احساس بھی تھا کہ جب سامنے سے ٹریفک آئے گی تو وہ اپنے ساتھ پانی کا بہائو بھی لے آئے گی جس کی وجہ سے اس لڑکے کا زور ٹوٹ جائے گا۔ میں نے اپنے دائیں ہاتھ میں اپنا موٹر سائیکل پکڑا اور بائیں ہاتھ سے کار کو دھکا لگانے میں نوجوان کی مدد کرنی شروع کردی ۔ جب میرے ساتھی کو احساس ہوا تو اس نے بھی بائیک چھوڑ دی اور کار کو دھکا لگانا شروع کر دیا۔ ہم تینوں نے گفتگو میں رنگ بھرا، ماحول بنایا ، بلا وجہ ہنسے اور اونچا اونچابولنے لگے تاکہ آس پاس لوگوں کے چہروںپر ہنسی آئے ۔ خیر آگے جا کے لڑکا
ہمیں چھوڑ گیا اور ہم دونوں کار کو دھکا لگاتے ہوئے بڑھتے رہے ۔
سڑک پر ایک ایسا مقام آیا جہاں سڑک اونچی تھی اور پانی کم لگا۔ میں نے کار والے کو آواز دی کہ گاڑی کو ذرا سلف تو لگائیں ۔ کار والے نے ایسا ہی کیا ، گاڑی اسٹارٹ ہو گئی۔ میں اپنے ساتھی سے مخاطب ہوا اور ذرا فلسفیانہ انداز میں کہا کہ ہم بھی کوشش کریں ۔ اُس نے کہا ضرور ضرور ۔ لو جی ، موٹر سائیکل کو کک ماری تو وہ راضی ہو گیا ۔بے سکونی کا طلاطم ٹوٹا۔ دل کے آنگن میں بہار آئی۔ ہم دونوں کے چہروں پر خوشی نے طواف کیا ۔رخسار کی سلطنت پر قوس قزح نمو دار ہوئی۔ ہم ایک نئے موضوع کے ساتھ محوِ گفتگو ہوئے۔ معلوم ہوا ہم محلے دار بھی ہیں اورہمارے دفاتر کی دیواریں بھی ملتی ہیں ۔ جس بات نے مجھے اب تک خوف میں مبتلا کیا ہوا ہے جو بات دماغ سے نکل نہیںپا رہی، جس کی وجہ سے دل و دماغ کے صحن میںہیبت طاری ہے وہ یہ ہے کہ میں نے اُس آدمی سے ڈرتے ڈرتے دھیمے سے لہجے میں پوچھا کہ بینائی کامسئلہ بچپن سے ہے یا بعد میں بنا ہے؟ وہ کہنے لگا ’’ہم چار بھائی ہیں اور چاروں نابینا ہیں‘‘ ۔۔۔۔اللہ ۔۔۔۔