جوڑوں کے درمیان لڑائی کا آغاز کس کی جانب سے کیا جاتا ہے

لاہور(نیٹ نیوز)اب یہ معمولی تکرار ہو یا مکمل لڑائی، بیشتر جوڑے آپس میں کبھی نہ کبھی لڑتے ہیں۔مگر اب ایک تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ عموماً لڑائی کا آغاز شوہر یا یوں کہہ لیں کہ مردوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ تر مردوں کی جانب سے براہ راست جارحیت کا آغاز کیا جاتا ہے۔مگر خواتین بھی بہت زیادہ معصوم نہیں ہوتیں۔تحقیق کے مطابق ایک بار جب لڑائی شروع ہو جائے تو خواتین بھی مردوں کی طرح جوابی وار کرتی ہیں۔محققین نے بتایا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کچھ افراد دیگر کے مقابلے میں زیادہ جارحیت پسند کیوں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مگر ہمیں یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ وہی فرد ایک قسم کی صورتحال میں جارحانہ رویہ اختیار کرتا ہے مگر دوسرے ماحول میں کچھ بھی نہیں کرتا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ خواتین کی جانب سے لڑائی شروع نہیں کی جاتی مگر لڑائی ہونے پر جواب ضرور دیا جاتا ہے۔اس تحقیق میں 104 افراد کو شامل کیا گیا اور انہیں ایک وقت سے جڑے ٹاسک کے لیے اکٹھا کیا گیا۔اس ٹاسک کے دوران ہر راؤنڈ کا آغاز ایک بلیک اسکرین سے ہوتا جس پر سفید حروف سے ریڈی لکھا ہوتا تھا۔ایک سیکنڈ بعد سیٹ لکھا آتا اور کچھ سیکنڈز بعد گو کے الفاظ اسکرین پر نظر آتے جس کے بعد رضاکاروں کو زیادہ تیز رفتاری سے آرکیڈ بٹنوں کو دبانا ہوتا۔ہر راؤنڈ کے فاتح کو ہارنے والے پر چیخنے کا موقع دیا جاتا۔30 راؤنڈز کے دوران محققین نے متعدد وقفے شامل کیے تاکہ جارحیت سے متاثر ہر فرد کی حالت کا جائزہ لے سکیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ ہر راؤنڈ میں خواتین کے مقابلے میں مرد زیادہ جارحیت پسند ثابت ہوئے۔جو ٹیمیں 2 خواتین پر مشتمل تھیں، ان میں جارحیت کی شرح کم تھی جبکہ خواتین کی جانب سے دیگر ساتھی خواتین کے ساتھ تنازع کی شدت میں کمی لانے کی کوشش کی گئی۔البتہ وقفوں کے دوران خواتین کے مقابلے میں مردوں میں جارحیت کی سطح میں تیزی سے کمی ریکارڈ کی گئی۔محققین کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ مردوں کی جانب سے اضطراب کا مظاہرہ زیادہ کیا جاتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہوئے۔