پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا حکومت اراکین اسمبلی کی مراعات ایکٹ میں ترامیم سے پیچھے ہٹ گئی اور بلیو پاسپورٹ سمیت اراکین اسمبلی کی نئی مراعات کے لیے کی گئی ترامیم واپس لینے کا اعلان کردیا۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تنخواہیں اور مراعات کے حوالے سے قانون میں ترامیم کرتے ہوئے ارکان اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کے لیے بلیو پاسپورٹ کی سہولت مانگی گئی لیکن سوشل میڈیا پر اس قانون کی شدید مخالفت کی گئی جس پر وزیراعلی سہیل آفریدی نے قانون میں کی گئی ترامیم کو واپس لینے کی ہدایت کی۔وزیر اطلاعات شفیع جان نے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ سے متعلق صوبائی کابینہ کے دیگر اراکین کے ہمراہ اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت آج صوبائی کابینہ اراکین کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔شفیع جان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ہدایات اور اسپیکر صوبائی اسمبلی کی مشاورت سے اراکین اسمبلی مراعات ایکٹ کی تمام قابل اعتراض شقیں واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔