ایک اور پھول مرجھا گیا: ثنا یوسف کا دلخراش قتل

محمد سعد
زندگی کی رونق، اٹھارہ سال کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ 17 سالہ ثنا یوسف، جو ایک روشن چہرے اور دلکش مسکراہٹ کے ساتھ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی پہچان بنا رہی تھی، اب صرف ایک دردناک کہانی بن کر رہ گئی ہے۔ اسلام آباد کے پوش علاقے میں واقع ان کے گھر میں گھس کر انہیں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا، اور ایک بار پھر ہمارے معاشرے پر سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو کب تک تحفظ فراہم کر سکیں گے؟
ثنا یوسف محض ایک ٹک ٹاکر یا کنٹینٹ کریٹر نہیں تھی، وہ ہزاروں نوجوان لڑکیوں کے لیے ایک مثال تھی جو سوشل میڈیا پر اپنے ہنر اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔ ان کی ویڈیوز میں زندگی اور جوش تھا، وہ اپنے انداز سے لوگوں کو محظوظ کر رہی تھیں۔ لیکن کسی کو ان کی یہ شہرت، یہ آزادی اور یہ مسکراہٹ پسند نہیں آئی۔ بظاہر یہ ایک غیرت کے نام پر قتل کا گھناؤنا فعل ہے، جس نے ایک بار پھر ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔
یہ کون سی "غیرت" ہے جو ایک جوان بیٹی کو صرف اس لیے ختم کر دیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جی رہی ہے، اپنے خواب دیکھ رہی ہے اور ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنا رہی ہے؟ یہ کون سا معیار ہے جو عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید دیکھنا چاہتا ہے اور اسے اپنی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں دیتا؟ ثنا کا قتل صرف ایک فرد کا قتل نہیں، یہ ان تمام خوابوں اور آزادیوں کا قتل ہے جو آج کی نوجوان نسل حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ ایک ایسے معاشرتی رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں عورت کی جان اس کی اپنی نہیں، بلکہ دوسروں کی "غیرت" کے تابع سمجھی جاتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات پر ہمارے معاشرے کا دوہرا معیار کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ ہمیں پورے پاکستان میں خالص دودھ نہیں ملے گا، صبح کی نماز پر بمشکل دو تین لوگ امام کے پیچھے کھڑے ہوں گے، لیکن جب ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں تو ہر کوئی یکدم "مومن" بن جاتا ہے اور اسلام کی دہائی دینے لگتا ہے۔ اگر ثنا پردہ نہیں کرتی تھی، یا اس کے طرزِ زندگی میں کوئی کمی تھی، تو اس کا جواب اس نے یا اس کے گھر والوں نے اللہ کو دینا تھا۔ قرآن و حدیث میں کہاں کسی کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے؟ اللہ پاک نے تو انسان کی جان کے احترام کا درس دیا ہے۔
اور پھر وہ لوگ ہیں جو یہ بکواس کرتے ہیں کہ "اچھا ہوا، اس کا یہی انجام ہونا تھا"۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی اپنی سرچ ہسٹری اگر معاشرے کے سامنے لائی جائے تو وہ شرم سے پانی پانی ہو جائیں۔ یہ منافقت ہے جو ہمارے معاشرے کی جڑوں میں سرایت کر چکی ہے۔ ہم دوسروں کی زندگیوں پر فیصلے صادر کرنے کے لیے تو فوراً اسلامی اسکالر بن جاتے ہیں، لیکن اپنی زندگیوں میں اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بطور معاشرہ، بطور قوم اس سنگین مسئلے پر گہرائی سے غور کریں۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، انہیں تعلیم اور آزادی کے مواقع دینے ہیں، اور انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ ان کی زندگی انمول ہے۔ ثنا یوسف کے قاتل کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہی کافی نہیں، ہمیں اس سوچ کو بھی دفن کرنا ہوگا جو عورت کی زندگی کو بے وقعت سمجھتی ہے۔ ورنہ "ایک اور پھول مرجھا گیا" کا یہ عنوان بار بار ہماری پیشانی پر ایک کلنک بن کر ابھرتا رہے گا۔
ض