رفیع صحرائی
پاکستان میں سائبر کرائمز کی بڑھتی ہوئی شرح ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران آن لائن فراڈ، جعلی فون کالز، بینکنگ معلومات کی چوری، سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دہی اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ہزاروں شہری اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہیں۔ لوگوں کا اربوں روپے کا نقصان اس منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ سلسلہ ابھی تک پوری طرح رک نہیں سکا۔ قانون کی گرفت سے بچ نکلنے والے عناصر دیدہ دلیری سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایسے حالات میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف مسلسل کارروائیاں یقیناً قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا ہیں۔
حال ہی میں کراچی میں شاہراہ فیصل پر واقع ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر پر این سی سی آئی اے کے چھاپے اور متعدد مشتبہ افراد کی گرفتاری اس سلسلے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کال سینٹر کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو دھوکہ دے کر ان کی بینکنگ معلومات حاصل کی جاتی تھیں، جنہیں مبینہ طور پر مالیاتی فراڈ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ متعلقہ ادارے کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
یہ کارروائی کسی ایک کال سینٹر یا چند افراد کے خلاف محض ایک چھاپہ نہیں بلکہ سائبر جرائم کے اس منظم کاروبار کے خلاف ریاستی عزم کا اظہار ہے جو پاکستان کے شہریوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم افراد کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کراچی سے پہلے لاہور اور راولپنڈی میں بھی مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ ان مسلسل کریک ڈاؤنز سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے منظم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ بلاشبہ این سی سی آئی اے کی یہ کوششیں خراجِ تحسین کی مستحق ہیں۔ تاہم اس جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ کارروائیوں کا یہ تسلسل برقرار رکھا جائے اور محض چند گرفتاریاں کرکے معاملہ ختم نہ سمجھ لیا جائے۔ سائبر کرائم ایک ایسا جرم ہے جس کی سرحدیں نہیں ہوتیں۔ ایک شہر میں بیٹھا ہوا شخص دنیا کے کسی بھی ملک کے شہری کو جعلی فون کال، ای میل، ویب سائٹ یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے دھوکہ دے سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جرم کا مقابلہ روایتی پولیسنگ کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر بین الاقوامی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
غیر قانونی کال سینٹرز کا معاملہ اس لیے بھی تشویش ناک ہے کہ بعض عناصر نے بظاہر جائز کاروبار اور روزگار کے اداروں کی آڑ میں فراڈ کو باقاعدہ صنعت کی شکل دے رکھی ہے۔ خوبصورت دفاتر، جدید کمپیوٹرز، تربیت یافتہ عملہ اور پرکشش تنخواہیں بظاہر ایک کامیاب کاروباری ادارے کا تاثر دیتی ہیں، لیکن اندرونِ خانہ بعض جگہوں پر شہریوں کی ذاتی معلومات حاصل کرنے، انہیں دھوکہ دینے اور ان کے مالیاتی اثاثوں تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے کا کام ہو رہا ہوتا ہے۔ ایسے ادارے نہ صرف متاثرین کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ پاکستان کے کاروباری ماحول اور عالمی تشخص کو بھی داغ دار کرتے ہیں۔
پاکستان اس وقت دنیا میں آئی ٹی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، فری لانسنگ اور آؤٹ سورسنگ کے شعبوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمارے لاکھوں نوجوان اپنی صلاحیتوں کے ذریعے عالمی منڈی میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اگر چند جرائم پیشہ عناصر جعلی کال سینٹرز کے ذریعے بیرون ملک شہریوں کو لوٹتے رہیں تو اس کا نقصان صرف متاثرہ افراد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ملک کی ساکھ متاثر ہوگی۔ غیر ملکی کمپنیاں پاکستانی آئی ٹی اداروں کے ساتھ کاروبار کرنے سے ہچکچائیں گی، سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور محنتی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جعلی کال سینٹرز کے خلاف کارروائی دراصل پاکستان کے جائز آئی ٹی اور آؤٹ سورسنگ کاروبار کے تحفظ کی کارروائی بھی ہے۔
اس ضمن میں ایک اہم پہلو ان کال سینٹرز میں کام کرنے والے نوجوانوں کی قانونی حیثیت کا تعین بھی ہے۔ پاکستان میں بے روزگاری ایک تلخ حقیقت ہے۔ ہر سال ہزاروں نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود مناسب روزگار سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر انہیں کسی ادارے کی طرف سے اچھی تنخواہ اور ملازمت کی پیشکش ہو تو وہ اکثر اس کی اصل سرگرمیوں کی چھان بین نہیں کرتے۔ ممکن ہے بعض ملازمین کو ادارے کی غیر قانونی سرگرمیوں کا علم ہی نہ ہو، جبکہ بعض دوسرے افراد جان بوجھ کر فراڈ کے عمل میں شریک ہوں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تحقیقات کے دوران ہر شخص کے کردار کا الگ الگ جائزہ لیا جائے۔ کسی ملازم کو محض کسی مشتبہ کال سینٹر میں کام کرنے کی بنیاد پر مجرم قرار دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہوگا۔ اگر کوئی نوجوان لاعلمی میں ملازمت کر رہا تھا اور اس کا کسی غیر قانونی سرگرمی میں کوئی کردٗار ثابت نہیں ہوتا تو اسے بلاوجہ سزا کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم جو افراد جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکہ دینے، ان کی بینکنگ معلومات حاصل کرنے یا مالیاتی فراڈ میں شریک رہے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
اصل ذمہ داری ان کال سینٹرز کے مالکان، سرمایہ کاروں اور اعلیٰ انتظامی عہدیداروں پر عائد ہوتی ہے جو مبینہ طور پر ان سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرتے، ملازمین کو مخصوص طریقوں سے دھوکہ دہی کی تربیت دیتے اور اس غیر قانونی کاروبار سے مالی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ این سی سی آئی اے کو چاہیے کہ وہ صرف سامنے آنے والے ملازمین تک اپنی تحقیقات محدود نہ رکھے بلکہ ان اداروں کے اصل سرپرستوں، مالیاتی ذرائع، بینک اکاؤنٹس، سرمایہ کاری، جائیدادوں اور بیرون ملک روابط کا بھی سراغ لگائے۔ بینکنگ اداروں، مالیاتی تحقیقاتی اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے اس نیٹ ورک کی جڑیں تلاش کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان جرائم کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم کہاں منتقل ہوتی ہیں، ان کے پیچھے کون لوگ ہیں اور کیا ان سرگرمیوں میں بیرون ملک موجود عناصر بھی شریک ہیں؟ جب تک اصل سرغنوں اور مالیاتی مفادات رکھنے والوں تک ہاتھ نہیں پہنچے گا، اس وقت تک ایسے جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہوگا۔ چند ملازمین کی گرفتاریاں کافی نہیں، اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس غیر قانونی کاروبار کے منصوبہ ساز اور سرپرست قانون کی گرفت میں آئیں گے۔
تاہم اس ساری صورت حال میں شہریوں کی ذمہ داری بھی کم اہم نہیں۔ سائبر جرائم کے بیشتر واقعات میں مجرم شہریوں کی لاعلمی، جلد بازی، لالچ یا اعتماد سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کبھی کسی بینک کا افسر بن کر فون کیا جاتا ہے، کبھی اکاؤنٹ بند ہونے کا خوف دلایا جاتا ہے، کبھی انعام نکلنے کی خوش خبری سنائی جاتی ہے اور کبھی کسی سرکاری ادارے کا نمائندہ بن کر ذاتی معلومات طلب کی جاتی ہیں۔ بعض اوقات واٹس ایپ پیغامات، جعلی لنکس اور مشکوک موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے بھی شہریوں کے اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لی جاتی ہے۔
شہریوں کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی مستند بینک فون پر ان کا اے ٹی ایم پن، پاس ورڈ یا او ٹی پی طلب نہیں کرتا۔ کسی اجنبی کو اپنی بینکنگ معلومات فراہم نہیں کرنی چاہئیں اور نہ ہی غیر مصدقہ لنکس پر کلک کرنا چاہیے۔ کسی نامعلوم شخص کی ہدایت پر موبائل میں کوئی ایپلی کیشن انسٹال کرنا یا اسکرین شیئرنگ کی اجازت دینا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر کسی کے ساتھ آن لائن فراڈ ہو جائے تو اسے خاموش رہنے کے بجائے فوری طور پر اپنے بینک اور متعلقہ سائبر کرائم ادارے کو اطلاع دینی چاہیے تاکہ بروقت کارروائی سے مزید نقصان روکا جا سکے۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سائبر کرائمز سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی کی ایک مستقل مہم شروع کرے۔ الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا، اخبارات، تعلیمی اداروں اور سرکاری ویب سائٹس کے ذریعے شہریوں کو فراڈ کے نت نئے طریقوں سے مسلسل آگاہ کیا جائے۔ صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ سائبر کرائم ایک جرم ہے بلکہ لوگوں کو یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ مجرم کس طرح انہیں اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور اس سے بچنے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ خصوصاً بزرگوں، خواتین، طلبہ اور آن لائن بینکنگ استعمال کرنے والے افراد کے لیے خصوصی آگاہی پروگرام مرتب کیے جانے چاہئیں۔
این سی سی آئی اے کی جانب سے کراچی، لاہور اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں مبینہ غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف جاری کارروائیاں ایک خوش آئند پیش رفت ہیں۔