بچوں میں کھانے پینے کے نخرے، کم عمری میں میٹھی غذاؤں کی عادت بھی ہو سکتی ہے وجہ

بچوں میں کھانے پینے کے نخرے، کم عمری میں میٹھی غذاؤں کی عادت بھی ہو سکتی ہے وجہ

چھوٹے بچوں کو میٹھی چیزیں کھلانا والدین کے لیے بظاہر معمول کی بات ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کم عمری میں بچوں کو زیادہ چینی والی غذائیں دینے سے ان کے ذائقے کی پسند اور مستقبل کی غذائی عادات متاثر ہو سکتی ہیں۔

ابتدائی عمر میں مسلسل میٹھی غذائیں کھانے سے بچوں میں میٹھے ذائقے کی رغبت بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ بعد میں سبزیوں اور دیگر کم میٹھی غذاؤں کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر سکتے ہیں۔

میٹھی غذائیں بچوں کی خوراک پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں؟

شیرخوار بچوں میں ذائقہ محسوس کرنے کی صلاحیت نسبتاً حساس ہوتی ہے۔ اس عمر میں مختلف ذائقوں سے آشنائی بچوں کی مستقبل کی غذائی ترجیحات تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر بچوں کو ابتدا ہی سے زیادہ میٹھی غذائیں دی جائیں تو ان میں میٹھے ذائقے کی عادت پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ بچے سبزیوں، پھلوں اور دیگر کم میٹھی غذاؤں کو پسند نہ کریں۔ یوں ان کی خوراک میں تنوع محدود ہونے کے ساتھ ضروری غذائی اجزا کی مناسب مقدار حاصل کرنے میں بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

ایک سال سے کم عمر بچوں کو کن چیزوں سے بچانا چاہیے؟

والدین کو چاہیے کہ ایک سال سے کم عمر بچوں کی غذا میں اضافی چینی، کارن سیرپ اور دیگر مصنوعی میٹھے اجزا شامل کرنے سے گریز کریں۔ خصوصاً اس عمر کے بچوں کو شہد ہرگز نہ دیا جائے، کیونکہ شہد میں موجود بعض جراثیمی ذرات بچوں میں انفینٹ بوٹولزم نامی ایک سنگین بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔اسی طرح بچوں کو ضرورت سے زیادہ پروٹین والی غذائیں دینے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ زیادہ پروٹین کا استعمال بچوں کے گردوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتا ہے، جبکہ بعض غذائی طریقوں اور مستقبل میں موٹاپے کے خطرے کے درمیان تعلق بھی زیرِ بحث رہا ہے۔ بچوں کی عمر اور ضروریات کے مطابق متوازن غذا کا انتخاب اہم ہے۔

بچوں کے لیے بہترین غذا کیا ہے؟

بچے کی زندگی کے پہلے چھ ماہ میں ماں کا دودھ بہترین اور بنیادی غذا ہے۔ اگر کسی وجہ سے ماں کا دودھ دستیاب نہ ہو یا کافی نہ ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے مناسب فارمولا دودھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔چھ ماہ کی عمر مکمل ہونے کے بعد بچے کو ماں کے دودھ یا فارمولا کے ساتھ تکمیلی غذائیں دینا شروع کرنی چاہئیں۔ ان غذاؤں میں نرم، سادہ اور غذائیت سے بھرپور اشیا شامل کی جا سکتی ہیں، تاکہ بچے کو مختلف ذائقوں اور غذاؤں سے آہستہ آہستہ متعارف کرایا جا سکے۔

والدین کے لیے اہم ہدایت

بچوں کی ابتدائی عمر میں متوازن غذا اور مختلف ذائقوں سے تعارف ان کی صحت مند غذائی عادات کی بنیاد رکھتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو غیر ضروری میٹھی اشیا دینے کے بجائے غذائیت سے بھرپور خوراک کو ترجیح دیں اور خوراک میں کسی بڑی تبدیلی یا خصوصی غذائی ضرورت کی صورت میں بچوں کے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔