توقیر نذیر کا انجام، عوام کا اطمینان اور وسیم عباس کو انصاف!

طلعت بٹ
کبھی کبھی ایک واقعہ پورے معاشرے کے ضمیر کو ہلا کر رکھ دیتا ہے. ملتان میں پندرہ سالہ مزدور معصوم وسیم عباس کی المناک موت بھی ایک ایسا ہی واقعہ ہے، جس نے عوام کے دلوں میں غم، غصے اور بے بسی کی کیفیت پیدا کر دی. ایک کم عمر بچہ، جسے زندگی میں آگے بڑھنے، تعلیم حاصل کرنے اور اپنے خواب پورے کرنے کا حق تو نا مل سکا مگر مبینہ طور پر گاڑی تلے کچل کر جان سے ہاتھ دھونے پڑ گئے. اس واقعے کے بعد عوام کی نظریں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مرکوز ہوگئیں کہ آخر اس معصوم بچے کے ساتھ پیش آنے والے ظلم کا انجام کیا ہوگا؟ توقیر نذیر کی بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاکت کی خبر سامنے آئی تو عوام نے سکھ کا سانس لیا اور کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارروائی کو بے حد سراہا. سوشل میڈیا پر بھی اس کارروائی کے حق میں ردعمل دیکھنے میں آیا. بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ خبر اس غم و غصے میں اطمینان بن گئی. جو وسیم عباس کی موت کے بعد پیدا ہوا تھا. عوامی جذبات کو سمجھنے کے لیے اس پس منظر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا. جب ایک بے سہارا بچے کی جان چلی جائے تو لوگ چاہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ہو. انہیں یہ احساس محسوس ہونا چاہیے کہ ریاست کمزور کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی کو بھی اپنی طاقت، دولت یا اثرو رسوخ کے بل پر قانون سے بالاتر ہونے کی اجازت نہیں. توقیر نذیر کی ہلاکت کے بعد سی سی ڈی کو ملنے والی عوامی پذیرائی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ شہری جرائم کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی دیکھنا چاہتے ہیں. عوام ایسے واقعات میں فوری کارروائی کو مؤثر پولیسنگ کی علامت سمجھتی ہے. خصوصاً جب معاملہ ایک پندرہ سالہ بچے کی ہلاکت کا ہو تو عوامی جذبات زیادہ شدت اختیار کر جاتے ہیں. سی سی ڈی کی ذمہ داری صرف ملزمان تک پہنچنا نہیں، بلکہ جرائم کی روک تھام، شواہد پر مبنی تفتیش اور شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانا بھی ہے. اگر ادارے قانون کے مطابق تیزی سے کام کریں، مجرموں کو گرفتار کرکے عدالتوں میں پیش کریں اور جرائم کی شرح کم کرنے میں کامیاب ہوں تو ان پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے. تاہم اصل کامیابی یہ ہے کہ ایسے اقدامات مسلسل ہوں، تفتیش شفاف ہو اور ہر شہری کو یقین ہو کہ قانون سب کے لیے برابر ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق، توقیر نذیر کو وسیم عباس کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا. بعدازاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ حراست سے فرار ہوگیا اور بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا. اگر کسی ملزم کے خلاف سنگین الزام ہو تو اسے عدالت میں پیش کرنا اور جرم ثابت ہونے پر سزا دلوانا ریاست کی ذمہ داری ہے. اسی طرح پولیس مقابلے کے حالات کی آزادانہ تحقیقات بھی ضروری ہیں تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے. یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ عوام کی جانب سے سی سی ڈی کی کارروائی کو سراہنا اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرنا ایک دوسرے کے متضاد نہیں. عوام جرائم کے خلاف سخت کارروائی بھی چاہتے ہیں اور یہ اطمینان بھی کہ ریاستی اختیارات قانون کے مطابق استعمال ہو رہے ہیں. وسیم عباس جیسے بچوں کا تحفظ کون کرے گا؟ اس پورے واقعے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ وسیم عباس محض پندرہ سال کا 
یتیم بچہ تھا اور کام سیکھنے کے لیے ٹھیکیدار کے پاس گیا تھا. اس کی موت نے بچوں کی محنت، ان کے تحفظ اور ان کی نگرانی کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں. کیا یتیم اور غریب بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اداروں کی کی ذمہ داری نہیں؟ کیا کم عمر بچوں سے کام لینے والوں کی نگرانی اداروں کی ذمہ داری نہیں ہونی چاہیے؟ کیا ایسے بچوں کے لیے کوئی مؤثر نظام نہیں ہونا چاہئے جو انہیں استحصال، تشدد اور خطرات سے محفوظ رکھ سکے؟ حکومت کو چاہیے کہ بچوں سے جبری مشقت لینے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد کروائے، یتیم خانوں اور متعلقہ اداروں کی نگرانی بہتر بنائے اور ایسے بچوں کے لیے تعلیم، ہنر اور تحفظ کے مواقع پیدا کرے. اگر کسی بچے کو کام سیکھنے کے لیے کسی شخص کے حوالے کیا جائے تو اس کی سلامتی اور فلاح کے لیے واضح ذمہ داریاں بھی متعین ہونی چاہییں. اصل کامیابی انصاف اور تحفظ میں ہے. توقیر نذیر کی ہلاکت پر عوامی حلقوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور سی سی ڈی کی کارروائی کو سراہا. یہ عوامی ردعمل اس خواہش کا اظہار ہے کہ جرائم کے خلاف ریاست کردار مؤثر ہے. لیکن وسیم عباس کی موت کا حقیقی سبق اس سے کہیں بڑا ہے. اگر اس واقعے کے بعد بچوں کے تحفظ کا نظام بہتر نہیں ہوتا، کم عمر مزدوروں کے استحصال کو نہیں روکا جاتا اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے تو ایک المناک واقعہ گزر جانے کے باوجود بنیادی مسئلہ اپنی جگہ موجود رہیں گے. سی سی ڈی سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی کارکردگی سے اسی طرح عوام کا اعتماد حاصل کریں. حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیسنگ کے ساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی، بچوں کے حقوق اور سماجی تحفظ کے نظام کو بھی مضبوط اور مربوط بنائے. وسیم عباس اب اس دنیا میں نہیں رہا. اس کی زندگی واپس نہیں آسکتی، لیکن اس کی موت کو ایک ایسی تبدیلی کا سبب ضرور بنایا جا سکتا ہے جو دوسرے بچوں کی زندگیاں محفوظ کرے. توقیر نذیر کا انجام ایک خبر ہے، سی سی ڈی کی کارروائی پر عوامی پذیرائی ایک ردعمل ہے، مگر وسیم عباس کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ پاکستان میں کسی غریب، یتیم یا بے سہارا بچے کو ظلم کے سامنے تنہا نہ چھوڑا جائے. انصاف صرف ملزم کے انجام کا نام نہیں؛ انصاف اس بات کی ضمانت کا نام ہے کہ آئندہ کسی وسیم عباس کو کسی فرعون کے فرعونیت سے اپنی جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑے.