ساگ کی بادشاہت

 رفیع صحرائی
آج سے پچاس پچپن سال پہلے بڑا سادہ دَور تھا۔ لوگوں کو فیشن کا پتا نہ تھا۔ لباس بھی سادہ ہوتا تھا۔ مڈل کلاس گھروں میں بھی میچنگ سوٹوں اور دوپٹوں کا رواج نہ تھا۔ مرد عام طور پر پاپلین نامی کپڑے کا سوٹ پہنتے تھے۔ سردی کے موسم میں سمر نامی کپڑے کا لباس سلوایا جاتا تھا۔ طلبہ سیاہ رنگ کے ملیشیا کی وردی پہنا کرتے تھے۔ خواتین گرمی میں ویل کی قمیض اور پاپلین کی شلوار جبکہ سردی میں کیمرک کا لباس پہنا کرتی تھیں۔ امیر لوگ بوسکی کا کرتا اور سفید لٹھے کی شلوار پہنا کرتے تھے۔ ہر کوئی اپنی حیثیت کے مطابق لباس پہنا کرتا تھا۔ نمود و نمائش کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ اسی دور میں کیرولین کے نام سے ایک کپڑا آیا جو دیگر کپڑوں کی نسبت بڑا مضبوط تھا۔ عموماً یہ کپڑا ہلکے نیلے اور بادامی رنگ میں ہوتا تھا۔ کیرولین کی آمد ایک انقلاب سے کم نہ تھی۔ یہ لوگوں کی پہلی ترجیح بن گیا کیونکہ اتنا ڈھیٹ اور مضبوط کپڑا تھا کہ کئی سال تک پھٹتا نہ تھا۔ لگ بھگ اسی دور میں نائیلون کی ایجاد ہوئی تھی۔ نائیلون کی ایجاد سے قبل مونج کے بان اور رسیوں کا رواج تھا۔ نائیلون کی رسی بھی کیرولین کی طرح لوگوں کی پہلی ترجیح بن گئی۔ اس کی یہ خاصیت تھی کہ نہ گلتی تھی، نہ خراب ہوتی تھی۔ انتہائی مضبوط اور دیرپا ہوتی تھی۔ کئی کئی سال چلتی تھی۔ ساگ کی حیثیت بھی دیگر سبزیوں میں نائیلون جیسی ہی ہے۔ اگر آم پھلوں کا بادشاہ ہے تو ساگ کو ہم سبزیوں کا بادشاہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ جب ساگ کا موسم آتا ہے تو پھر ہر گھر میں ساگ ہی کی حکمرانی ہوتی ہے۔پنجاب کے دیہات میں ساگ ہمیشہ سے ہی بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ مکئی کی روٹی ساتھ ہو تو ساگ کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے اور اس لطف کو سہ بالا کرنا ہو تو ساتھ چاٹی کی لسی کو شامل کر لیا جاتا ہے۔ اس مزے کو چہار بالا گرم گرم ساگ پر مکھن کا پیڑا کر دیتا ہے۔ساگ کی سب سے بڑی خوبی اور فائدہ یہ ہے کہ یہ دیہات میں مفت اور بے تحاشہ دستیاب ہوتا ہے۔ شہر والے البتہ زیادہ قدردان ہیں کہ وہ اسے قیمتاً خرید کر اس کی عزت افزائی میں اضافہ کرتے ہیں۔ قریباً پانچ ماہ تک یعنی وسط ستمبر سے وسط فروری تک ساگ کا راج رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ساگ کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ ساگ ایک سبز رنگ کی ڈھیٹ سی سبزی ہوتا ہے، ڈھیٹ اس طرح کہ جس گھر میں گھس جائے ے تو کئی کئی دن پڑا رہتا ہے۔ ساگ، ماڈرن بھکاری اور بیمہ ایجنٹ سے جان چھڑانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ساگ اور نائیلون میں یہ قدر مشترک ہے کہ جلدی خراب نہیں ہوتے۔ سردیوں کے دو تین ماہ تو ساگ کی حیثیت گھر کے فرد جیسی ہو جاتی ہے۔ ناشتے، لنچ اور ڈنر میں ماؤں کو اتنی فکر اپنے بچوں کی نہیں ہوتی جتنی ساگ کی ہوتی ہے۔ گویا ساگ نہ ہوا ڈاکٹر کی دوائی ہو گئی جسے صبح، دوپہر اور شام کو بڑی پابندی سے کھانا ہے۔ اکثر گھروں میں ’’ارے ساگ کہاں ہے؟‘‘ جیسے جملے تواتر سے سننے کو ملتے ہیں۔  اگر یہ کہا جائے کہ ساگ سال میں چار پانچ ماہ ہر مرد و عورت پر فرض ہے تو غلط نہ ہو گا اور فرض بھی ایسا کہ جس کی ادا?یگی سب خوشی خوشی کرتے ہیں ورنہ من حیث القوم ہم فرض چھوڑ کر نفلوں کے پیچھے زیادہ بھاگتے ہیں۔سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ساگ میں کیلشیم، پوٹاشیم، فولاد، فاسفورس اور آلو کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔اکثر قدامت پسند گھرانوں میں ساگ میں آلو نہ ڈالنا ساگ کی توہین سمجھا جاتا ہے۔ ان کا بس چلے تو توہینِ ساگ کا ایکٹ پارلیمنٹ سے منظور کروا کر نافذ کروا دیں۔ مگر ماڈرن اور شہری گھرانوں میں آلو کو ساگ کی ہمشیرہ یعنی پالک کے حوالے کر کے ساگ کو گوشت کا ساتھ مہیا کیا جاتا ہے۔ ساگ بھی اپنی اس عزت افزائی پر خوش ہے۔ دیہات میں آلو یا گوشت کا تکلف نہیں کیا جاتا کیونکہ وہاں ملاوٹ کو جرم سمجھا جاتا ہے اس لیے وہاں ’’خالص ساگ‘‘ ہی پکایا جاتا ہے۔ یوں ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آ جاتا ہے یعنی ساگ میں ڈالے جانے والے دیگر لوازمات پالک، باتْھو اور پَلّی وغیرہ بھی نہ صرف مفت میں دستیاب ہوتے ہیں بلکہ ساگ کی لذت میں بھی کئی گنا اضافہ کر دیتے ہیں۔ لسّی دیہات میں عام مل جاتی ہے اور بعض اوقات لسّی کے ساتھ مکھن بھی دے دیا جاتا ہے۔بعض گھروں میں تو اتنے برتن نہیں ہوتے جتنی اقسام کا وہاں ساگ بنا ہوتا ہے۔ سردیوں میں اکثر فریج کھولیں تو آلو ساگ، قیمہ ساگ،چکن ساگ، میتھی ساگ، گندلوں کا ساگ اور اسی طرح کے چند مزید ساگوں سے فریج ساگو ساگ ہوا ہوتا ہے۔ایک غیر معروف دانشور کا قول ہے کہ ساگ کو چاہے پانچ منٹ پکاؤ یا پانچ گھنٹے پکاؤ، یہ اپنا رنگ نہیں بدلتا۔ اگر اس کے کچھ مزید کلرز مارکیٹ میں لانچ کر دیے جائیں تو یہ ایک شاہکار سبزی ثابت ہو سکتا ہے۔ فی زمانہ اگر کو?ی فرد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے کبھی ساگ نہیں کھایا تو یا تو وہ جھوٹ بول رہا ہے یا پھر اس کے رشتہ دار پنجاب میں موجود نہیں ہیں۔ ساگ پورے ملک میں مشہور ہے۔ پنجاب ساگ کی وجہ سے مشہور ہے۔ ساگ کی ایک خراب بات یہ ہے کہ ایک دن پکاؤ تو ہفتہ ہفتہ چل جاتا ہے۔۔ جو لوگ ساگ کو قریب سے جانتے ہیں انہیں اچھی طرح علم ہو گا کہ اسے کھا کھا کر بندہ خراب ہو جائے تو ہو جائے یہ خود کبھی خراب نہیں ہوتا۔ اسے فریج میں نہ بھی رکھیں تو اپنی ڈھٹائی کو سچ ثابت کرنے کے لیے خراب ہونے کا نام بھی نہیں لیتا۔ البتہ اس کی وجہ سے بہت سوں کے پیٹ خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ جلدی ہضم نہیں ہوتا۔  ساگ کی تاثیر گرم ہوتی ہے، یہ بلڈ پریشر کو بڑھا دیتا ہے جو غصے کا سبب بنتا ہے جبکہ یار لوگ سمجھتے ہیں شاید ساگ کھانے سے بندے میں دلیری آ جاتی ہے۔آج کل ساگ کی حکمرانی ابتدائی مراحل میں ہے۔ چند دن بعد پنجاب کے ہر شہر اور گاؤں میں اسی کی حکومت ہو گی۔