سفینہ سلیم
احسان" عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے "بھلا ئی، اچھائی، اورکسی کیساتھ نیکی کرنا"۔
لفظِ احسان کا مادہ ’’ح - س - ن‘‘ ہے جس کے معنی ’’عمدہ و خوبصورت ہونا‘‘ کے ہیں۔
احسان ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جو انسان کی زندگی کو بہتر اور روشن بناتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی پر احسان کرتا ہے، تو وہ بلا کسی شرط یا توقع کے ہوتا ہے۔ اللہ کا ہر کرم انسان کے دل میں سکون اور اطمینان پیدا کرتا ہے، اور اس کے ذریعے انسان اپنی زندگی میں خوشی اور کامیابی حاصل کرتا ہے۔ اللہ کا احسان ہمیشہ ایک بے غرض عمل ہوتا ہے جو انسان کو گناہوں سے پاک کرنے، ہدایت دینے اور اس کے دل میں سکون پیدا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔
اللہ کا احسان انسان کے لیے ایک تحفہ کی مانند ہے، جو اس کی زندگی میں نئی روشنی اور امید پیدا کرتا ہے۔ اس کا ہر کرم انسان کی زندگی میں ایک نیا آغاز لاتا ہے، اور اس کے ذریعے انسان اپنے مقصد کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ اللہ کا کرم انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازتا ہے، اور جب انسان ان نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، تو اللہ اسے مزید عطا کرتا ہے۔دوسری طرف، جب انسان اپنے احسانات کو دوسروں پر جتاتا ہے یا ان پر بوجھ ڈال دیتا ہے، تو یہ عمل دوسروں کے لیے سکون کی بجائے بے چینی اور تکلیف کا باعث بن سکتا ہے۔ انسان جب کسی دوسرے کی مدد کرتا ہے تو اکثر اس میں خود کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی خواہش ہوتی ہے، جس سے دوسرے شخص کے دل میں شکر گزاری کی بجائے شکایت پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ عمل نہ صرف دوسروں کے لیے مشکل پیدا کرتا ہے بلکہ خود انسان کے دل میں بھی بوجھ بڑھا دیتا ہے۔امام راغب اصفہانی لفظ حسن کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس سے مراد ایسا حسین ہونا ہے، جو ہر لحاظ سے پسندیدہ اور عمدہ ہو اور اس کا عمدہ ہونا عقل کے پیمانے پر بھی پورا اترتا ہو، قلبی رغبت اور چاہت کے اعتبار سے بھی دل کو بھلا لگتا ہو اور یہ کہ حسی طور پر یعنی دیکھنے سننے اور پرکھنے کے اعتبار سے بھی پرکشش ہو‘احسان ایسا عمل ہے، جس میں حسن و جمال کی ایسی شان موجود ہو کہ ظاہر و باطن میں حسن ہی حسن ہو اور اس میں کسی قسم کی کراہت اور ناپسندیدگی کا امکان تک نہ ہو۔ پس عمل کی اسی نہایت عمدہ اور خوبصورت ترین حالت کا نام ’’احسان‘‘ ہے
امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں بندہ اپنی عبادت کو پورے کمال کے ساتھ انجام دے گا اور اس کے ظاہری ارکان آداب کی بجا آوری اور باطنی خضوع و خشوع میں کسی چیز کی کمی نہیں کرے گا۔ الغرض عبادت کی اس اعلیٰ درجے کی حالت اور ایمان کی اس اعلیٰ کیفیت کو ’’احسان‘‘ کہتے ہیں۔اسلام میں "احسان" کی ایک اہمیت ہے جو قرآن اور حدیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔ احسان کا مفہوم صرف نیک عمل تک محدود نہیں بلکہ اس میں اللہ کی رضا کی طلب کے ساتھ ہر کام بہترین طریقے سے انجام دینا شامل ہے۔
سورۃ البقرہ کی آیات کا ترجمہ ہے
(اللہ کے راستے میں صدقہ دینے کے بعد احسان جتانے یا تکلیف دینے سے اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو، جیسے وہ شخص جو اپنی دولت دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان پر مٹی ہو اور اوپر بارش پڑے، تو وہ چٹان صاف ہو جائے، اور وہ جو کچھ کمائے تھے، اس میں سے کچھ بھی ہاتھ نہ آئے۔ اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔)
(اگر تم شکر گزار ہو اور ایمان لاؤ تو اللہ تمہیں عذاب کیوں دے گا؟ اور اللہ شکر کرنے والا، جاننے والا ہے۔)
"اگر تم شکر گزار بنو گے تو میں تمہیں مزید دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے۔"
(اللہ تمہیں انصاف، احسان، اور قریبی رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے روکتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔)
(کہہ دو: "اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو، جو لوگ دنیا میں احسان کرتے ہیں، ان کے لیے اچھائی ہے، اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ بے شک صبر کرنے والوں کا بدلہ بغیر حساب کے دیا جائے گا۔"۔
حدیث میں احسان:
جبریل امین علیہ السلام نے جب احسان کے بارے میں سوال کیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو (تجھے یہ کیفیت نصیب نہیں اور اسے) نہیں دیکھ رہا تو (کم از کم یہ یقین ہی پیدا کر لے کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ ‘‘
احسان کے حوالے سے نہ صرف قرآن بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی گئی تورات، زبور، اور انجیل میں بھی "احسان" کے بارے میں
جو ہدایات آئی ہیں، ان کا ذکر ان کی مختلف آیات میں کیا گیا ہے۔
تورات:
**کتاب احبار:19.18(Leviticus)"تم اپنے ہمسایہ سے اپنے جیسے محبت کرو۔"
کتاب میکاہ: 6.8(Micah)
"تْو نے انسان سے کیا مانگا ہے؟ سوائے اس کے کہ انصاف کرے اور احسان کرے اور اپنے خدا کے ساتھ عاجزی سے چل۔"
زبور
زبور 37:3
"خداوند پر توکل کر اور بھلا ئی کر۔
زبور 33:5
’’خداوند عدل اور انصاف سے محبت کرتا ہے، زمین پر اس کی محبت بھرے کام ظاہر ہوتے ہیں۔"
انجیل:
متی 5:44
لیکن میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو، جو تمہیں لعنت کریں ان کے لیے دعا کرو، اور جو تمہارے ساتھ برا سلوک کریں ان کے لیے دعا کرو۔"
لوقا 6:35
"بلکہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھو اور بھلا ئی کرو، اور بغیر کسی بدلے کے قرض دو۔
- متی 7:12
- جو کچھ تم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں، تم بھی ان کے ساتھ ویسا ہی کرو۔’’
حقیقتاًاحسان کا اصل مقصد صرف اللہ کی رضا ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سے تعریف یا بدلے کی توقع۔ اگر ہم کسی کی مدد کریں تو ہمیں اس عمل کو اللہ کی رضا کے لیے خالص کرنا چاہیے، اور اس میں کسی قسم کی توقعات یا جتانے کا عنصر شامل نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ کا احسان بے غرض، بلا شرط اور ہمیشہ انسان کے لیے سکون کا سبب بنتا ہے، کیونکہ اللہ کا ہر کرم اس کی محبت اور رحمت کی نشانی ہوتا ہے۔
یقیناً، اللہ کا احسان انسان کی زندگی میں ایک نعمت کی طرح آتا ہے، جو دلوں میں سکون، راحت اور خوشی پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس،
انسان کا احسان اگر جتا کر یا بوجھ ڈال کر پیش کیا جائے، تو یہ دوسروں کے لیے تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی نیکیوں کو اس طرح پیش کریں کہ وہ دوسروں کے لیے بوجھ کی بجائے سکون کا سبب بنیں، تاکہ ہماری ہر نیکی اللہ کی رضا کے لیے ہو اور انسانیت کی خدمت کا حقیقی مقصد پورا ہو۔