مسکنِ محبوب

سفینہ سلیم 
انسانی تجربے کی وسعت کو اگر ایک لفظ میں سمیٹا جا سکتا ہے تو وہ محبت ہے۔ اور محبت اگر ایک مقام ایک مسکن ایک جائے قیام چاہے تو انسان کی تخلیق  سے یہ مقام دل کو حاصل رہا ہے۔ دل گو کہ محض ایک عضویاتی پمپ ہے جو خون کی ترسیل پر مامور ہے مگر زبان و بیان میں جذبات و احساسات میں ادب و عرفان میں یہ صرف گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ ایک روحانی مرکز ایک نورانی مقام ایک تمثیلی وجود جتنامقام حاصل رہاہے۔دل شاعری میں وہ استعارہ ہے جس نے صحراؤں میں قافلے چلوائے بستیوں کو اجاڑا مزاروں کو روشن رکھاعاشقوں کو رسوا کیا اور شاعروں کو زندہ جاوید کر دیا۔ سائنس جتنی بھی ترقی کر لے نیورونز کی کتنی ہی دقیق تفصیلات پیش کریدل کی تمثیل اورجذبات کو وہ کھرچ نہیں سکتی جو صدیوں کی انسانی احساسات کی ثقافت میں رچی بسی ہے۔یہ بات درست ہے کہ دماغ سوچنے سمجھنے کی آماجگاہ ہے۔ عقل، تدبر تجزیہ اور فیصلہ سازی سب اسی کے مرہونِ منت ہیں۔ دماغ وہ منظم فیکٹری ہے جو معلومات کو ذخیرہ کرتی ہیمرتب کرتی ہے اور ان پر عمل کے احکامات صادر کرتی ہے۔ وہ ایک خالص منطقی وجود ہے جذبات سے آزاد وجدان سے بے نیاز۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ محبت صرف منطق سے نہیں احساس سے جنم لیتی ہے۔ اور احساس کی سرزمین دل ہے دماغ نہیں۔اللہ کا گھربھی دل ہے دماغ نہیں۔
محبت کی آغوش میں نہ حساب ہوتا ہے نہ توازن یہاں پیمائش نہیں بے خودی ہوتی ہے۔ دماغ اگر عشق کے دروازے پر دستک دے بھی دے تو دربان یہی کہتا ہے یہاں صرف دل والوں کا گزر ہے۔دماغ ٹھٹھک کر رک جاتا ہے اور دل وہ ہر بار آگے بڑھ جاتا ہے چاہے جل کر راکھ ہی کیوں نہ ہو جائے۔ اسی تناظرمیں اب اگر ہم جدید حسیت مابعد جدیدیت ساختیات اور ساخت شکنی کی زبان میں بات کریں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زبان بھی سائنسی اصولوں کی طرح ایک مربوط منطقی اور یکساں نظام بن سکتی ہے؟ کیا زبان سے وہ تمام محاورے ،استعارے تمثیلیں اور تشبیہیں رخصت ہو جائیں گی جو حقیقت کے خلاف ہیں لیکن تجربے کے عین مطابق؟ توجناب 
نہیں، ہرگز نہیں۔
زبان کوئی طبیعی قانون نہیں جو تجربہ گاہ میں ثابت کیا جائے نہ ہی وہ فلکیات کا چارٹ ہے جو یکساں قوانین پر قائم ہوزبان انسان کی اجتماعی لاشعور،ل اس کے خواب اس کے خوف اس کی امیدوں اور سب سے بڑھ کر اس کی محبت کا پرتو ہے۔ یہ دل کی زبان ہے صرف دماغ کی نہیں یہاں وقت جامد نہیں بلکہ ماضی، حال اور مستقبل ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔یہ ممکن ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی زبان کے اظہار کے طریقے بدل دیں اس کے وسیلے بدل دیں لیکن اس کا جوہر اس کی روح وہی رہے گی جو صدیوں سے ہے۔جب کوئی دل ٹوٹنے کی بات کرتا ہے، تو اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ دل واقعی ٹوٹتا ہے یا نہیں۔ اس کے لیے یہ محاورہ اس کی داخلی کیفیت کا عین عکس ہے۔ اس لیے زبان چاہے جتنی ترقی کرے سائنسی منہاج کو اپنا لیوہ اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہ انسانی تجربے کی وسعت اس کی بے 
قراری اس کی چاہت اور اس کے درد کو اپنے دامن میں نہ سمیٹے۔محبت ایک سچ ہے جسیکسی بھی سائنسی کسوٹی پرپرکھ کرسائنس اس کاپیمانہ طینہیں کرسکتی نہ ثابت کرسکتی ہے۔ دل ایک حقیقت ہے اتنا ہی حقیقی جتنا کسی عاشق کی آہیں یا ماں کی دعا۔
اس سے بھی انکارممکن نہیں کہ دماغ نے شاید چاند پر پہنچا دیا ہو مگر دل آج بھی ایک خاموش رات میں ستاروں سے راز و نیاز کرتا ہے۔ وہ آج بھی محبوب کی یاد میں دھڑکتا ہے بے قابو ہوتا ہے اور کبھی کبھی صرف ایک آہ کے ساتھ خاموش بھی ہو جاتا ہے۔دل فقط ایک عضو نہیں جیسے چراغ صرف تیل سے نہیں جلتا اس میں کوئی دعا، کوئی خواہش، کوئی پرانا خواب بھی گھلا ہوتا ہے۔ دماغ اگر کاتب ہے تو دل وہ شاعر ہے جو بغیر سیاہی کے بھی ورقِ زیست پر رنگ بھر دیتا ہے۔ دل وہ پرندہ ہے جو عقل کی زنجیروں کو توڑ کر افق کی طرف پرواز کرتا ہے چاہے اس کی پرواز میں شکست ہی کیوں نہ لکھی ہو۔ دل وہ پرانا کچا راستہ ہے جو ہر بار محبوب کے در تک جا نکلتا ہے چاہے دنیا کی کتنی ہی شاہراہیں ذہن کی طرف جاتی ہوں۔ دل وہ آئینہ ہے جس میں چہرہ نہیں، احساسات و جذبات  دکھائی دیتے ہیں۔ اور یہی احساس یہی بے چینی، یہی دھڑکن زبان کا وہ جوہر ہے جسے کوئی سائنسی خوردبین نہ دیکھ سکتی ہے، نہ ماپ سکتی ہے۔سودل رہے گا جیسے خوشبو رہے گی جیسے پرانا کتبہ جس پر وقت کی گرد بھی احترام سے بیٹھتی ہے  دل ہی تو ہے اور دل ہی مسکنِ محبوب ہے۔کوئی سائنسی کسوٹی نہیں جس کیاصول مرتب کرکے نتیجہ اخذکیاجائے۔پس، زبان اگر انسان کی ہو تو دل ہی اس کا محور رہے گا وہی مسکنِ محبوب وہی معبدِ عشق۔