مسک نے انتخابی مہمات پر مجموعی طور پر 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے
ایلون مسک نے انتخابی سرمایہ کاری کے لئے ٹیکساس کو مرکزی میدان بنایا
صرف ستمبر کے مہینے میں ریپبلکن سینیٹ کمیٹی کو 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر فراہم کیے
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی امریکی وسط مدتی انتخابات میں بھاری مالی معاونت بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔مسک نے انتخابی مہمات پر مجموعی طور پر 44 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے، جن میں سے زیادہ تر رقم ریپبلکن امیدواروں اور انتخابی کمیٹیوں کو فراہم کی گئی۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق ایلون مسک کی اپنی سیاسی کمیٹی بھی کروڑوں ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرنے والوں میں شامل رہی، جبکہ انہوں نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے ریپبلکن انتخابی گروپس کو بھی بھاری مالی معاونت فراہم کی۔ایلون مسک نے انتخابی سرمایہ کاری کے لئے ٹیکساس کو مرکزی میدان بنایا، جہاں ٹیسلا اور سپیس ایکس کے مرکزی دفاتر بھی واقع ہیں، مسک نے صرف ستمبر کے مہینے میں ریپبلکن سینیٹ کمیٹی کو 15 کروڑ 80 لاکھ ڈالر فراہم کیے۔یہ رقم ٹیکساس کے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کی حمایت کرنے والی کمیٹی کو دی گئی، جبکہ مسک کی سیاسی کمیٹی نے ڈیموکریٹک امیدوار کے خلاف انتخابی سرگرمیوں پر 4 کروڑ 70 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ رپورٹ کے مطابق ایلون مسک نے ٹیکساس میں انتخابی سرگرمیوں کے لیے مجموعی طور پر 22 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی، تاہم ان کی بھاری مالی سرمایہ کاری بھی ریپبلکنز کے لیے مطلوبہ انتخابی کامیابی کی ضمانت ثابت نہ ہو سکی۔