اسرائیل کی فلسطینیوں کے ساڑھے 9 ہزار گھر تباہ کرنے کی تیاری

 مالکان کو نوٹس ،کئی مکانات اور گھروں سمیت دیگر عمارات کو مسمار کر دیا گیا
مقبوضہ بیت المقدس(آئی این پی )اسرائیلی نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھروں، مکانات، دکانوں و دیگر عمارات کی مسماری کی مہم کو آگے بڑھاتے ہوئے ساڑھے 9 ہزار سے زیادہ گھروں کو تباہ کرنے کی تیاری کے سلسلے میں فلسطینی مالکان کو نوٹس جاری  کردئیے۔عالمی میڈیا  رپورٹ کے مطابق فلسطینی کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نوٹس 2015 سے صرف مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے محروم اور بے دخل کرنے کی خاطر جاری کئے گئے۔رپورٹ کے مطابق کئی واقعات میں مکانات اور گھروں سمیت دیگر عمارات کو مسمار کر دیا گیا اور بہت ساری جگہوں پر فلسطینیوں کے زیر تعمیر مکانات اور دوسری عمارتوں کی تعمیر کوروک دیا گیا۔اسرائیلی حکومت کے ان اقدامات کے تحت فلسطینیوں کی مقبوضہ مغربی کنارے میں زندگیوں کو اجیرن کرنے کی مہم کو کامیابی سے آگے بڑھایا ہے، اس سلسلے میں کمیشن کی رپورٹ فیس بک پر پوسٹ کی گئی ہے۔کمیشن نے ایسی 9174 دستاویزات مرتب کی ہیں، یہ دستاویزات 2015 سے 2025 کے درمیان کی ہیں جو اسرائیلی حکومت نے نوٹسز کی صورت میں جاری کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق 2026 میں مزید 344 نوٹس جاری کیے گئے جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے گھر گرانا یا ان کی تعمیر کو روکنا ہے، بہت سے نوٹسز کے تحت مکانات اور گھر مسمار بھی کیے جا چکے ہیں۔اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کو مغربی کنارے میں بے گھر کرنے کے سلسلے میں 2023 کا سال سب سے زیادہ خطرناک رہا کہ اس ایک سال کے دوران 1333 مکانات کو ہدف بنایا گیا۔سب سے زیادہ گھر الخلیل شہر میں نشانہ بنے، اس چھوٹے شہر میں 2015 سے اب تک اسرائیلی حکومت نے 2697 مکانات و عمارات سرخ نشانات کی زد پر لائے گئے۔اسی طرح بیت الحم میں 1310 گھر نشانے پر لائے گئے حتی کہ رملہ  اور مقبوضہ بیت المقدس سمیت دیگر شہروں میں بھی سلسلہ سینکڑوں گھروں اور دوسری عمارات کے خلاف اسی طرح جاری رہا لیکن اس ایک فورم کی جانب سے ان تمام گھروں سے متعلق دستاویزات کو جمع نہیں کیا جا سکا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق ادارے او سی ایچ اے کے مطابق اسرائیلی حکومت نے لگ بھگ 12000 عمار تی ڈھانچے مسمار کئے ہیں۔