پنجاب کے ضلع سرگودھا میں اسکول ٹیچر کی جانب سے طلبہ کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور واقعات کی ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دو بچوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹس میں جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ حتمی میڈیکل اور ڈی این اے رپورٹس کا انتظار ہے۔
پولیس کے مطابق کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور گرفتار اسکول ٹیچر سمیت تین ملزمان سے برآمد ہونے والے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کو فرانزک تجزیے کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔ ان آلات سے حاصل ہونے والے ڈیجیٹل شواہد تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کا مقدمہ چھ روز قبل اسکول ٹیچر صفدر عباس اور دو مبینہ سہولت کاروں کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم سمیت تینوں افراد اس وقت سی سی ڈی کی حراست میں ہیں۔
طالب علم کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کا واقعہ
پولیس کے مطابق سرگودھا کے علاقے 107 جنوبی میں قائم گورنمنٹ ہائی اسکول کے طالب علم عبداللہ کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔درج مقدمے کے مطابق اسکول ٹیچر صفدر عباس نے طالب علم عبداللہ کو بریک ٹائم کے دوران اپنی بیٹھک پر بلایا، جہاں پہلے سے موجود دو طالب علموں، حسن اور علی حسن، نے مبینہ طور پر اسے زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ واقعے کے دوران اسکول ٹیچر صفدر عباس وہاں موجود رہا اور اس نے واقعے کی ویڈیو بھی بنائی۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم پر الزام ہے کہ وہ اس سے قبل بھی متعدد طالب علموں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے اور مبینہ طور پر ویڈیوز بنا کر بچوں کو بلیک میل کرتا تھا۔ ان الزامات کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
موبائل فونز اور لیپ ٹاپ فرانزک کے لیے بھجوا دیے گئے
پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ کو فرانزک جانچ کے لیے متعلقہ ادارے کو بھجوا دیا ہے۔ تفتیشی حکام ڈیجیٹل مواد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ واقعے سے متعلق شواہد، مبینہ ویڈیوز اور دیگر معلومات کی جانچ کی جا سکے۔دو بچوں کی ابتدائی میڈیکل رپورٹس میں جنسی زیادتی کی تصدیق کے بعد کیس کی تحقیقات مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں، تاہم پولیس کے مطابق حتمی میڈیکل اور ڈی این اے رپورٹس موصول ہونے کے بعد شواہد کی مزید جانچ کی جائے گی۔
بچے کے دادا کی درخواست پر مقدمہ درج
واقعے کے بعد سرگودھا کے تھانہ عطا شہید میں متاثرہ بچے کے دادا کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے مقدمے میں نامزد افراد کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔