پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کے لیے پاکستان ویمنز ٹیم کے سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے مطابق وکٹ کیپر بلے باز منیبہ علی ٹیم کی قیادت کریں گی، جبکہ عائشہ ظفر کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
ٹورنامنٹ 12 سے 25 نومبر تک متحدہ عرب امارات کے شہر عجمان میں کھیلا جائے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق ایونٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی اہم ہوگی، جبکہ کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملے گا۔ سکواڈ میں تجربہ کار اور ابھرتی ہوئی کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ٹیم ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
ایشین گیمز کی 12 کھلاڑیوں نے سکواڈ میں جگہ برقرار رکھی
اعلان کردہ سکواڈ میں ایشین گیمز میں برونز میڈل جیتنے والی قومی ٹیم کی 12 کھلاڑیوں نے اپنی جگہ برقرار رکھی ہے۔ ان کھلاڑیوں میں ایمان نصیر، ایمان فاطمہ، صدف شمس، سائرہ جبین، شوال ذوالفقار، نشرہ سندھو، مومنہ ریاست، طوبہ حسن، ام ہانی، وحیدہ اختر اور تسمیہ رباب سمیت دیگر کھلاڑی شامل ہیں۔منیبہ علی کی قیادت میں قومی ٹیم ٹورنامنٹ کے دوران اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی، جبکہ نائب کپتان عائشہ ظفر بھی بیٹنگ کے شعبے میں اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گی۔
10 ٹیمیں ٹرافی کے لیے مقابلہ کریں گی
ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی میں مجموعی طور پر 10 ٹیمیں شرکت کریں گی، جنہیں دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٹورنامنٹ 12 نومبر سے شروع ہوگا اور 25 نومبر تک جاری رہے گا، جبکہ فائنل 26 نومبر کو کھیلا جائے گا۔گروپ بی میں پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، نیدرلینڈز اور زمبابوے کو شامل کیا گیا ہے۔ دوسری جانب گروپ اے میں سری لنکا، آئرلینڈ، اسکاٹ لینڈ، پاپوا نیو گنی اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں شامل ہیں۔
گروپ مرحلے کے بعد سپر سکس مقابلے ہوں گے
ٹورنامنٹ کے ابتدائی مرحلے میں ہر ٹیم اپنے گروپ کی دیگر چار ٹیموں کے خلاف ایک، ایک میچ کھیلے گی۔ اس طرح ہر ٹیم گروپ مرحلے میں چار میچز کھیلے گی۔گروپ مرحلے کے بعد ہر گروپ کی ٹاپ تین ٹیمیں سپر سکس مرحلے میں جگہ بنائیں گی، جہاں ہر ٹیم مزید تین میچز کھیلے گی۔ اس مرحلے میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی دو ٹیمیں 26 نومبر کو فائنل میں ٹرافی کے حصول کے لیے مدمقابل ہوں گی۔
پاکستان ویمنز ٹیم کے لیے اہم موقع
ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی قومی کھلاڑیوں کے لیے اپنی صلاحیتوں کو منوانے اور بین الاقوامی مقابلوں کا تجربہ حاصل کرنے کا اہم موقع ہوگی۔ ایشین گیمز میں میڈل جیتنے والی کھلاڑیوں کی شمولیت سے ٹیم کو تسلسل اور باہمی ہم آہنگی کا فائدہ ملنے کی توقع ہے۔