ثانیہ مرزا کا نیا بیان: ذہنی صحت پر کھل کر بات کی

ثانیہ مرزا کا نیا بیان: ذہنی صحت پر کھل کر بات کی

بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے ذہنی صحت کے موضوع پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو روبوٹ سمجھنا غلط ہے، کیونکہ وہ بھی حقیقی جذبات اور احساسات رکھنے والے انسان ہیں۔

ثانیہ مرزا نے بتایا کہ ذہنی صحت پر بات کرنا بے حد ضروری ہے، اور انہوں نے خود اپنی زندگی میں اس موضوع پر بات کرنے میں کافی دیر کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سے 10 برسوں میں ہی لوگ ذہنی صحت پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں، جبکہ پہلے معاشرے میں اس حوالے سے بدنامی اور شرمندگی کا احساس پایا جاتا تھا۔بھارتی کھلاڑی جمیما روڈریگز کے سیمی فائنل میں اپنی گھبراہٹ اور بے چینی کے اعتراف کا حوالہ دیتے ہوئے ثانیہ مرزا نے کہا کہ اس طرح کی کھلی باتیں دیگر کھلاڑیوں کے لیے حوصلے کا باعث بنتی ہیں۔ثانیہ مرزا نے کہا کہ بطور کھلاڑی زندگی بظاہر مشینی انداز میں گزرتی ہے اور لوگ ہمیں روبوٹ سمجھ لیتے ہیں، لیکن یہ درست نہیں۔ ہر انسان اپنی مشکلات سے گزرتا ہے، اور ذہنی طور پر خود کو کمزور ظاہر کرنا آسان نہیں، مگر یہی قبولیت اور آگاہی کا راستہ ہے۔

اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ڈپریشن کے مختلف ادوار سے گزری ہیں اور ٹینس کورٹ سے باہر کے مسائل نے بھی ان پر گہرا اثر ڈالا۔ تاہم، بعد میں انہوں نے ان مشکلات پر کھل کر بات کی اور اس سے آگاہی پھیلائی۔واضح رہے کہ ثانیہ مرزا فروری 2023 میں پروفیشنل ٹینس سے ریٹائر ہوئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ بطور اسپورٹس مینٹور، بزنس شخصیت اور میڈیا پرسنالٹی متحرک ہیں اور اپنی ٹینس اکیڈمی کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت فراہم کر رہی ہیں۔یہ انکشاف ذہنی صحت کی اہمیت، کھلاڑیوں کے جذباتی مسائل اور سپورٹس کمیونٹی میں آگاہی کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔