سلمان خان کو ’جھوٹی اور خطرناک‘ پان مصالحہ اشتہارات کے الزام پر نوٹس جاری

سلمان خان کو ’جھوٹی اور خطرناک‘ پان مصالحہ اشتہارات کے الزام پر نوٹس جاری

بالیوڈ کے معروف اداکار سلمان خان ایک بار پھر قانونی مشکلات میں پھنس گئے ہیں۔

ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے گمراہ کن پان مصالحہ اشتہارات کیے ہیں، جس کے سبب کوٹا کنزیومر کورٹ نے انہیں نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ معاملہ ایک درخواست کے ذریعے سامنے آیا ہے، جسے بی جے پی کے سینئر رہنما اور راجستھان ہائی کورٹ کے وکیل اندرموہن سنگھ ہنی نے دائر کیا ہے۔درخواست گزار کا موقف ہے کہ سلمان خان اور پان مصالحہ کمپنی نے صارفین کو جھوٹی معلومات کے ذریعے گمراہ کیا ہے۔ خاص طور پر، کمپنی راجشری پان مصالحہ اپنے اشتہارات میں دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا پراڈکٹ زعفران، ملے الائچی اور زعفران سے بنا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زعفران کی قیمت تقریباً 4 لاکھ روپے فی کلوگرام ہے، اور یہ اجزاء عام مارکیٹ میں اتنے سستے دام میں شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔درخواست گزار نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ایسے اشتہارات نوجوان نسل کو پان مصالحہ کے استعمال کی ترغیب دیتے ہیں، جو منہ کے سرطان کی ایک بڑی وجہ ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سلمان خان جیسے مشہور شخصیات لاکھوں لوگوں کے رول ماڈل ہوتے ہیں، اور ان کے ذریعے نقصان دہ مصنوعات کی تشہیر نوجوانوں کو غلط پیغام دینے کے مترادف ہے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق، کوٹا کنزیومر کورٹ نے سلمان خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 27 نومبر کو مقرر کی ہے۔ اس سلسلے میں، اندرموہن سنگھ ہنی کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک میں مشہور شخصیات کو کولڈ ڈرنکس یا دیگر نقصان دہ مصنوعات کی تشہیر کرنے سے روکا جاتا ہے، لیکن ہمارے یہاں فلمی ستارے ایسے برانڈز کے ایمبیسیڈر بنے ہوئے ہیں، جو کہ نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔