بھارتی میڈیا کا دعویٰ: سلمان خان کو دہشت گرد قرار دینے کا الزام من گھڑت اور جھوٹا

بھارتی میڈیا کا دعویٰ: سلمان خان کو دہشت گرد قرار دینے کا الزام من گھڑت اور جھوٹا

ایک جعلی اور من گھڑت کہانی ہے جو بھارتی میڈیا میں نشر کی گئی۔

 اس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے بالی ووڈ کے مشہور اداکار سلمان خان کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، کیونکہ انہوں نے ایک تقریب میں بلوچستان کا ذکر کیا تھا۔ تاہم، حقیقت میں یہ بات سراسر بے بنیاد اور جھوٹی ہے۔ تفصیل درج ذیل ہے:

دعویٰ کا اصل ماخذ:
بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایک سرکاری نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے، جس میں سلمان خان کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کا الزام تھا کہ سلمان خان نے بلوچستان کے حوالے سے گفتگو کی تھی، جس کو بنیاد بنا کر انہیں دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کی جانچ اور حقیقت:
پاکستانی میڈیا اور حکام نے اس نوٹیفکیشن کا بغور جائزہ لیا۔ تحقیق سے یہ معلوم ہوا کہ:

نوٹیفکیشن کا نمبر اور تاریخ مشکوک اور جعلی ہیں۔
دستاویز کی فارمیٹ، فونٹس، اور دیگر تفصیلات پاکستان کے سرکاری معیار سے میل نہیں کھاتیں۔
تاریخ 16 اکتوبر 2025 درج ہے، جبکہ سلمان خان نے 17 اکتوبر کو تقریب میں حصہ لیا تھا، یعنی یہ دستاویز اس سے پہلے کی تاریخ کی ہے۔
دستاویز میں املا کی غلطیاں اور دستخط بھی جعلی تھے، جو کہ اصل سرکاری دستاویزات سے مختلف تھے۔
یہ دستاویز ڈیجیٹل ایڈیٹنگ کے ذریعے تیار کی گئی تھی۔
حقیقی صورتحال:
پاکستانی حکام اور محکمہ داخلہ بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن جعلی ہے اور ان کے پاس اس طرح کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔ یہ ایک من گھڑت اور جھوٹی دستاویز ہے، جس کا مقصد غلط معلومات پھیلانا اور سیاسی اثرات مرتب کرنا ہے۔
سلمان خان کا اصل بیان:
سلمان خان نے اپنی گفتگو میں صرف یہ کہا تھا کہ، "یہاں بلوچستان، افغانستان اور پاکستان سے لوگ کام کر رہے ہیں، اسی لیے فلمیں فوراً کامیاب ہو جاتی ہیں۔" اس بیان کو سیاسی رنگ دینے کے لیے سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کیا گیا، اور اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔
۔