پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

پنجاب سمیت مختلف علاقوں میں شدید سیلابی صورتحال، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

ویب ڈیسک: پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 3 ستمبر تک ممکنہ بارشوں کے باعث سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 53 ہزار کیوسک اور سلیمانکی پر 1 لاکھ 24 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جو بارشوں اور ڈیموں سے مزید اخراج کی صورت میں 3 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے۔ دریائے چناب میں ہیڈ تریموں پر 5 لاکھ 16 ہزار کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ ہوا ہے، جب کہ راوی میں بھی پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق راوی میں پانی کی مقدار 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک جا سکتی ہے۔ دریائے چناب اور اس سے منسلک ندی نالوں میں خطرناک حد تک پانی بڑھنے سے بستیاں، فصلیں اور پشتے متاثر ہو سکتے ہیں۔اب تک 24 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر، 9 لاکھ بے گھر اور 41 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں بستیاں ڈوب گئی ہیں۔ ملتان میں ہیڈ محمد والا کے مقام پر بڑا سیلابی ریلا داخل ہو گیا ہے، جہاں انتظامیہ نے حفاظتی شگاف ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

 فیصل آباد، لاہور اور ملتان جانے والی جی ٹی روڈ کئی مقامات پر ٹوٹ چکی ہے اور ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے۔بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑے جانے کے بعد پنجاب کے 9 اضلاع میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ شامل ہیں۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق تربیلا ڈیم 100 فیصد اور منگلا ڈیم 83 فیصد بھر چکے ہیں، جب کہ راول ڈیم کے سپل ویز بھی کھول دیے گئے ہیں۔ این ڈی ایم اے اور ریسکیو ادارے ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر 24 گھنٹے فعال ہے۔