کراچی (خصوصی رپورٹ) گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رہنماء اور سابق رکن قومی اسمبلی سائرہ بانو نے سندھ حکومت کی ’ڈاکو سرنڈر پالیسی‘ پر تنقید کرتے ہوئے ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کے جرائم اور ان کے سروں پر مقرر انعام کی تفصیل بھی بتادی۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی پالیسی کے تحت سرنڈر کرنے والوں میں سر کی قیمت والے 9، پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوٹ 6، شہریوں کے قتل میں ملوث 19 ڈاکو شامل، اغوا برائے تاوان میں ملوث 6، ہائی وے ڈکیتی میں ملوث 5 جب کہ پولیس مقابلوں اور دیگر مقدمات میں ملوث 26 ڈاکو شامل ہیں۔سائرہ بانو کہتی ہیں کہ 60 لاکھ سر کی قیمت والا سکھیو تیغانی، 60 لاکھ سر کی قیمت والا سونارو تیغانی، 30 لاکھ سر کی قیمت والا گلزار تیغانی، 30 لاکھ سر کی قیمت والا ملا تیغانی بھی گرفتاری دینے والوں میں شامل ہے، اس کے علاوہ 30 لاکھ روپے سر کی قیمت والا ڈاکو نثار سبزوئی، 20 لاکھ انعام مقرر ہونے والا لاڈو تیغانی، 20 لاکھ سر کی قیمت والا جمعو تیغانی نے بھی سرنڈر کیا۔جی ڈی اے کی سابق رکن قومی اسمبلی نے بتایا کہ گرفتاری دینے والے ڈاکوؤں میں 15 لاکھ سر کی قیمت والا ڈاکو نور الدین تیغانی اور 30 لاکھ روپے سر پر انعام مقرر ہونے والا غلام حسین ٹمو شامل ہے، جنہوں نے گھر اجاڑے، قتل کیے، اغواء کیے ان کو ریڈ کارپٹ پر معافی دی جاتی ہے؟ کیا قتل اور اغواء ہونے والے کسی کی ریڈ لائن نہیں ہیں؟۔