نوجوان پروفیشنلز ملک کیوں چھوڑ رہے ہیں

امجد علی
کائنات دراصل مسلسل تخلیق، تغیر، اصلاح اور تشکیل نو کا ایک ایسا مربوط تکوینی نظام ہے جو ہر لمحہ نئی صورتیں سامنے لاتا ہے۔ الیکٹران، نیوٹران اور پروٹان جیسے بنیادی ذرات سے لے کر کہکشاؤں اور انسانی معاشروں تک، ہر سطح پر ایک مسلسل عمل جاری ہے، کچھ بنتا ہے، کچھ بگڑتا ہے، غلطی سامنے آتی ہے، اسے پہچانا جاتا ہے اور پھر اسی ناکامی کو نئے تجربے کے ذریعے ایک بہتر اور مفید صورت تشکیل دی جاتی ہے۔ شاید یہی فطرت کا بنیادی اصول ہے کہ گلیکسیوں کا نظام جامد نہیں رہتا، بلکہ اپنی خامیوں کو آشکار کرکے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔
سسٹم میں ناکام عوامل کی تشخیص و تذکرہ کرتے چند روز قبل وزیر داخلہ جناب محسن نقوی صاحب کا یہ کہنا کہ "پورا سسٹم کولیپس کر چکا ہے" محض ایک سیاسی جملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے سوال کی طرف اشارہ ہے جس سے اب آنکھیں چرانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ نظام کے اندر اصل شطرنج کون کھیل رہا ہے، کون سا مہرہ کہاں رکھا جا رہا ہے اور کس چال کا مقصد کیا ہے، یہ تو شطرنج کے کھلاڑی ہی جانتے ہوں گے، لیکن عام آدمی کے سامنے جو منظر ہے، وہ بہرحال تشویش ناک ہے۔

معیشت کے اعداد و شمار ہوں، روزگار کی صورت حال ہو، مہنگائی کا دباؤ ہو یا نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی، ہر طرف ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے، اگر نظام واقعی کمزور ہو چکا ہے تو اس کی بیماری کہاں ہے، اور اس کا علاج کیا ہے؟

یہ سوال صرف سیاست دانوں کا نہیں۔ یہ ہر اس نوجوان کا سوال ہے جو برسوں محنت کرکے ڈگری حاصل کرتا ہے، اپنی صلاحیتیں نکھارتا ہے اور پھر روزگار، تحفظ، میرٹ اور باوقار مستقبل کی تلاش میں اپنے ہی ملک سے باہر جانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ آخر ایسا کیوں؟

ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شہریوں کو تحفظ، انصاف، معیاری تعلیم، صحت اور روزگار کے مساوی مواقع فراہم کرنا شامل ہے۔ شہری کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوگی تو قانون اس کے ساتھ کھڑا ہوگا، اگر اس کا حق مارا جائے گا تو عدالت اسے انصاف دے گی اور اگر وہ محنت کرے گا تو اس کی ترقی کا راستہ سفارش، طاقت اور تعلقات کی بجائے میرٹ سے منزل کی طرف کھلتا ہے۔ مگر جب شہریوں کو اس کے برعکس مناظر دکھائی دینے لگیں تو اعتماد کیسے قائم رہے؟

سوشل میڈیا پر پولیس کے ایسے واقعات وائرل ہوتے رہتے ہیں جن میں کمزور شہری، خواتین یا بزرگ خود کو ریاستی تحفظ کے بجائے ریاستی طاقت کے سامنے بے بس محسوس کرتے ہیں۔ یقیناً پولیس میں بے شمار ایسے افسران اور اہلکار بھی ہیں جو دیانت داری سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عوامی اعتماد پورے ادارے کے مجموعی کردار سے بنتا ہے، چند اچھے افراد کی موجودگی سے نہیں۔

اسی طرح جب کسی شہری کے پیارے کا قتل ہو جائے اور انصاف کے حصول کا سفر برسوں پر محیط ہو جائے اور لاحاصل بھی رہے، یا جب طاقتور اور کمزور کے لیے قانون کے دو مختلف معیار کا تاثر پیدا ہو، تو زخم صرف ایک خاندان کا نہیں رہتا، پورے معاشرے کے اعتماد پر لگتا ہے۔

ملک میں جاری سیاسی انتشار نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ایک طویل عرصے سے ملک میں بے یقینی، باہمی عدم اعتماد اور سیاسی کشمکش کا ماحول ہے۔ اس ماحول کا سب سے بڑا نقصان شاید وہ نسل اٹھا رہی ہے جس نے ابھی اپنی زندگی کا سفر شروع ہی کیا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان پروفیشنلز کا ملک چھوڑنا محض امیگریشن کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ قومی بقا کا سوال بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، محققین، اساتذہ، کاروباری ذہن رکھنے والے نوجوان اور دوسرے ہنرمند لوگ بیرون ملک مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگ جا رہے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ ان کی قابلیت، محنت، تجربہ اور مستقبل کی امیدیں بھی جا رہی ہیں۔ سرمایہ بھی باہر جا رہا ہے اور صلاحیت بھی۔ یہ کسی بھی ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بیرون ملک جانے والے نوجوانوں کو وطن دشمن کہنا، انہیں برا بھلا کہنا یا ان کے فیصلے پر طنز کرنا قطعاً نامناسب ہے اور مسئلے کا حل بھی نہیں۔ آخر یہ بچے کہاں سے آئے ہیں؟ اسی ملک کے اسکولوں اور کالجوں سے۔ اسی معاشرے میں پلے بڑھے ہیں۔ اسی مٹی نے انہیں شناخت دی ہے۔ اسی وطن نے انہیں خواب دیکھنا سکھایا ہے۔

اگر وہ آج کسی دوسرے ملک میں بہتر مستقبل تلاش کر رہے ہیں تو ہمیں ان سے پہلے اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ وہ جا کیوں رہے ہیں؟ کیا وہ پاکستان سے نفرت کرتے ہیں؟ یا وہ صرف ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں ان کی محنت کی قدر ہو، قانون انہیں تحفظ دے، میرٹ انہیں آگے بڑھائے اور ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو؟ یہ بیرون ملک منتقلی گرمی بڑھ جائے تو اس سے بچنے کے لیے انسان ادھر اْدھر ٹھنڈی جگہ کا متلاشی ہوتا ہے والی کہانی جیسی ہی ہے۔ 

گھر کے حالات خراب ہوں تو گھر کو گالی نہیں دی جاتی، گھر والوں کے آپسی معاملات و حالات درست کیے جاتے ہیں۔ گھر کے راستے میں بکھرے کانٹے چنے جاتے ہیں، راستہ تباہ نہیں کیا جاتا صاف کیا جاتا ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ صاف کرنا پڑتا ہے، کیونکہ گھر بہرحال اپنا ہی ہوتا ہے۔ ملک بھی تو ایک بڑے گھر کی مانند ہے۔

ایک گھر اس وقت جنت بنتا ہے جب اس میں رہنے والے ایک دوسرے کو تحفظ، عزت، محبت اور انصاف دیتے ہیں۔ لیکن اگر گھر کے بڑے اپنی ذمہ داری بھول جائیں، طاقتور کمزور کو دباتا رہے، انصاف جانبداری کا شکار ہو جائے اور ہر فرد ذاتی مفاد کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دینے لگے تو گھر کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔ مکین گھر سے باہر غیروں کو اپنا سمجھ کر سکوں ڈھونڈتے ہیں

پھر ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ بیرون ملک جانے والے ہمارے بچے کیوں جا رہے ہیں؟ یہ بچے ابھی بچے ہیں۔ انہوں نے یہ نظام نہیں بنایا۔ انہوں نے قانون کو کمزور نہیں کیا۔ انہوں نے اداروں کی ساکھ مجروح نہیں کی۔ انہوں نے میرٹ کو سفارش کے تابع نہیں کیا۔ انہوں نے سرکاری منصب کو ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بنایا۔ تو پھر ان سے کیسا شکوہ؟

اصل سوال ان لوگوں سے ہونا چاہیے جن کے ہاتھ میں اختیار تھا، وسائل تھے، فیصلے تھے اور ذمہ داریاں تھیں۔ اشرافیہ، جن کی بھوک ہی ختم نہیں ہوتی جسے جتنا ملتا ہے، اتنا ہی وہ ہل من مزید کہتا ہے؟

ایک طرف عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ سے لڑ رہا ہے، دوسری طرف طاقتور طبقوں کے مفادات کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف نوجوان اپنی تعلیمی اسناد ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں ملکوں ملکوں خوار ہو رہے ہیں، دوسری طرف سرمایہ رکھنے والا طبقہ بھی اپنے اثاثوں کے لیے زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد مقامات تلاش کر رہا ہے۔ مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا حالانکہ ان کی اکثریت ملکی دولت لوٹ کر اسے حلال کی مہر لگانے کے لیے باہر منتقل کرتی ہے۔ اس رویے کے تدارک کے لیے کبھی کسی نے قانونی بند نہیں باندھا۔ بلکل یہ گروہ روز افزوں کثیر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ منظر کسی بھی زندہ قوم کے لیے لمح? فکریہ ہونا چاہیے۔

ہمارے نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔ انہیں روکنے کے لیے تقریریں نہیں، اعتماد چاہیے۔ انہیں وطن سے محبت کے لیکچر نہیں، قانون کا تحفظ چاہیے۔ انہیں حب الوطنی کے نعرے نہیں، انصاف کی عملی ضمانت چاہیے۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ اگر ان کے ساتھ زیادتی ہوگی تو پولیس ان کے ساتھ کھڑی ہوگی، عدالت انہیں انصاف دے گی، ادارے قانون کے مطابق کام کریں گے اور کسی طاقتور شخص کا فون قانون سے بڑا نہیں ہوگا۔

جب ایک نوجوان کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اس کی قابلیت سے زیادہ سفارش اہم ہے، اس کے حق سے زیادہ طاقتور کی خواہش اہم ہے اور قانون کی کتاب سے زیادہ کسی مقتدر فرد کا اشارہ مؤثر ہے، تو پھر اسے مستقبل کی تلاش میں باہر جانے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟

اس نوجوان کو برا کہنا آسان ہے، اور اپنے نظام کا احتساب کرنا مشکل ہے۔ ہمیں یہ مشکل کام کرنا ہوگا۔ جن لوگوں نے قانون کی عمل داری کو کمزور کیا، ان سے سوال کرنا ہوگا۔ جو اپنی ذمہ داری کے بجائے طاقتور کے خوف یا مفاد کے زیر اثر فیصلے کرتے ہیں، ان سے سوال کرنا ہوگا۔ جو قانون کو اپنے مفادات کے مطابق موڑنے کی کوشش کرتے ہیں، ان سے سوال کرنا ہوگا۔ اور ان فیصلوں پر بھی سوال ہونا چاہیے جن کی قیمت پوری قوم کو ادا کرنا پڑتی ہے۔

اعلیٰ فیصلہ ساز کرسیوں پر ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو قانون، دیانت، اہلیت اور قومی مفاد کو ذاتی تعلقات، دباؤ، خوف اور مفاد پر مقدم رکھیں۔ نہ صرف مقدم رکھیں بلکہ انہی دیانت اور اصولوں کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ ریاستیں نعروں سے مضبوط نہیں ہوتیں، اداروں سے مضبوط ہوتی ہیں۔ ادارے عمارتوں سے نہیں، کردار سے مضبوط ہوتے ہیں۔ اور کردار قانون کی بالادستی سے پیدا ہوتا ہے۔

وزیر داخلہ جناب محسن نقوی صاحب! اگر واقعی پورا سسٹم کولیپس کر چکا ہے تو اسے صرف نقشے پر صوبوں کی تعداد بڑھا کر درست نہیں کیا جا سکتا۔ نئے صوبے انتظامی ضرورت ہو سکتے ہیں، لیکن اس وقت اصل سوال شاید اس سے کہیں بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاستی اداروں کی ساکھ کیسے بحال ہوگی؟ قانون کی بالادستی کیسے یقینی بنائی جائے گی؟ انصاف ہر شہری کی دہلیز تک کیسے پہنچے گا؟ انتظامیہ کو سیاسی اور ذاتی دباؤ سے کیسے آزاد کیا جائے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، اس نوجوان کو یہ یقین کیسے دلایا جائے گا کہ اس کا مستقبل اسی ملک میں محفوظ ہے؟

مسئلہ صرف صوبوں کی تعداد کا نہیں، مسئلہ ریاست اور شہری کے درمیان ٹوٹتے ہوئے اعتماد کا ہے۔ امن جبر سے نہیں، انصاف سے قائم ہوتا ہے۔ استحکام خوف سے نہیں، قانون کی حکمرانی سے آتا ہے۔ سرمایہ صرف مراعات سے نہیں، اعتماد سے آتا ہے۔  نوجوان صرف حب الوطنی کے خطابات سے وطن میں نہیں رکتے، انہیں ایسا وطن چاہیے جہاں ان کی محنت، قابلیت، جان، عزت اور مستقبل محفوظ ہو۔ اس لیے بیرون ملک جانے والے بچوں کو برا مت کہیں۔

انہیں واپس لانے کے لیے ایسا پاکستان بنائیں جسے چھوڑنے کا انہیں دکھ ہو، مگر جسے چھوڑنا ان کی مجبوری نہ ہو۔ یہ بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر انہیں روکنا ہے تو راستے مت روکیں، مجبوریاں روکیں۔ اگر ہجرت کم کرنی ہے تو پاسپورٹ نہیں، نظام تبدیل کریں۔ اگر وطن سے تعلق مضبوط کرنا ہے تو تقریریں نہیں، ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ بحال کریں۔ یہ رشتہ یہ اعتماد ہی ملک کی شہہ رگ ہے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو سنہری خواب دینے ہیں، کٹے ہوئے محل کی تصویریں نہیں۔

یہی دراصل شکوہ بھی ہے اور جواب شکوہ بھی۔ ہمیں ایسی نسل چاہیے جو حالات سے شکست کھانے کے بجائے حالات بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ ہمیں ایسے نوجوان چاہئیں جو علم، کردار، دیانت اور تخلیق کے ذریعے ملک کی تعمیر کریں۔ ہمیں شاہین کی ضرورت ہے، مردار خور گدھوں کی، کرگسوں کی نہیں۔

شاہین بلندیوں کا خواب دیکھتا ہے، اپنی نگاہ منزل پر رکھتا ہے اور مشکل ہواؤں سے گھبراتا نہیں۔ قومیں بھی اسی وقت زندہ رہتی ہیں جب ان کے نوجوان بلند خواب دیکھتے ہیں، اپنے اداروں پر اعتماد کرتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ یہ ذمہ داری یقینا قیادت کو سر انجام دینی ہے

آج سوال صرف یہ نہیں کہ نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ایسا ملک کیوں نہیں بنا پا رہے جہاں سے نوجوان جانا ہی نہ چاہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہم نے آج تلاش نہ کیا تو کل شاید ہمارے پاس عمارتیں ہوں گی، ادارے ہوں گے، سڑکیں ہوں گی، منصوبے ہوں گے، مگر انہیں آگے بڑھانے والے ہاتھ نہیں ہوں گے۔ اور تب آنے والی نسل ہم سے صرف یہ نہیں پوچھے گی کہ تم نے ملک کے لیے کیا کیا؟ وہ یہ بھی پوچھے گی، جب ملک کو تمہاری ضرورت تھی، تم نے اپنے اختیار، اپنی ہوس اور اپنے مفاد کے ساتھ کیا کیا؟ یہ سوال آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اور اس کا جواب بھی ہمیں ہی دینا ہے۔