ّٓسال یادیں چھوڑ گیا

طلعت بٹ
پچھلے صدموں کو بھلانے میں پھر ایک سال لگے گا
سارے شکووں کو بھلانے میں پھر ایک سال لگے گا
پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ھے کہ ہر آنے والا سال گزرے ہوئے سال کی نقل کرتا ہوا آگے بڑھا اور بغیر کسی تبدیلی کے ھی سب کو اپنی نا قابل فراموش یادیں دے کر گزر گیا اور اپنے پیچھے نا حل شدہ سوالات چھوڑ گیا۔ جو محض کیلنڈر کے اوراق کی حد تک تبدیلی نہیں ہونی چاہئے بلکہ ایک نئی سماجی و معاشی کٹھن سفر کا آغاز ثابت ہو۔ جب ہم نئے سال کی دہلیز پر دستک دے چکے ہیں تو ایوانوں میں گونجتی معاشی کامیابی کے دعویداروں کی کھوکھلی تقریریں اور عالمی اداروں کی توصیفی رپورٹس ایک طرف، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی گلی محلوں میں رہنے والے عام پاکستانی تک بھی پہنچے گی کہ جس کی زندگی 75 سال سے معاشی ترقی اور ملکی بقاء￿  کی جدوجہد میں کٹ رہی ہے؟ سال2026ء￿  پاکستان کے لیے محض ایک ہندسہ نہیں بلکہ پچھلے سال کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی آزمائش کا سال ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے سیاسی جماعتوں اور حکمران طبقوں نے ریاست کی بے حد مجبور اور غریب عوام سے کر رکھے ہیں۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ اعداد و شمار کی جادوگری تو خوب دکھائی دیتی ہے مگر حقائق میں تلخی اور تنزلی کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ ایک طرف بلوم برگ اور آئی ایم ایف ہماری موجودہ ملکی صورتحال کو ابھرتی ہوئی معاشی ترقی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف حالیہ رپورٹ کے مطابق 2 کروڑ 62 لاکھ بچوں کا اسکولوں سے باہر ہونا اور صحت پر جی ڈی پی کا محض ایک فیصد خرچ ہونے پر بھی چہ مگوئیاں سننے اور دیکھنے میں نظر آرھی ھیں۔ 2026ء￿  سے متعلق عام آدمی کا محض اعداد و شمار کی بہتری کا مطالبہ ھی نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے علاج و  معالجے کے حوالے سے سرکاری ہسپتالوں میں ذلت کے بجائے دوسری دنیا کے لوگوں کی طرح عزت سے ہر وہ سہولت ملے جو دوسرے ممالک میں عوام کو وہاں کی حکومتوں کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں اور ان کے بچوں کو نجی اداروں یعنی پرائیویٹ سکولوں کے بجائے سرکاری اسکولوں میں معیاری تعلیم میسر ہو۔ معاشی اور اقتصادی طور پر تو 2025ء￿  مہنگائی اور بیروزگاری کا سال ھی رہا ھے، کہ جس نے سفید پوش طبقے کی کمر ھی توڑ کر رکھ دی۔ سٹاک ایکسچینج کے ڈیفالٹ کے خطرے کا ٹلنا اپنی جگہ پر ، مگر یہاں تو ایک عام آدمی ساڑھے سات دہائیوں سے اپنے ووٹ اور حکمرانوں کی بے حسی کا خمیازہ بھگت رہا ھے۔ چناچہ اب موجودہ حکومت کو ایسی ٹھوس اور جامع عوامی فلاحی پالیسیاں وضع کرنی ہونگی جن کو نہ صرف براہِ راست عوام خبروں کی حد تک سنے بلکہ اس کے ثمرات سے مستفید بھی ہونا ضروری ھے۔ روٹی،کپڑا اور مکان بیشک انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں لیکن ایک عام آدمی صرف یہی نہیں مانگتا بلکہ وہ معاشرے میں عزتِ نفس کے تحفظ کا بھی طلب گار ہے۔ عام شہری ایک ایسے سیاسی اور ترقی یافتہ معاشرتی ماحول کا خواہاں ھے کہ جس میں رواداری،برداشت اور باہمی محبت کو فروغ ملتا نظر آئے۔ یہ سب حکمران طبقہ کی اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔ چناچہ یہاں یہ بات بھی کہنا غلط نا ہو گا کہ انتہا پسندی اور مذہبی نفرت کے خاتمے کے لیے ریاست اور عوام 
کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اسی طرح عوام کو رواں سال میں موجودہ حکومت سے سب سے بڑی توقع باعزت روزگار کی فراہمی اور مہنگائی کے خاتمے کے حوالے سے ھے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد نوجوان طبقے میں سے کچھ نوجوان رشوت اور سفارش نا ہونے کی وجہ سے ڈگریاں ہاتھ میں تھامے در بدر ٹکریں مارنے کے بعد مایوس ہو کر کسی نا کسی بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ھیں۔ ایسے عوامل ریاست اور معاشروں کی ناکامیوں کا سبب بنتے ھیں۔ لہذا حکومت کو آئی ٹی اور چھوٹی صنعتوں میں ایسے انقلابی اقدامات اٹھانے ہوں گے کہ جن کی وجہ سے میرٹ پر آنے والے نوجوان غیر ممالک کی ترقی کا حصہ بننے کی بجائے اپنے وطن کی ترقی کے معمار  بنیں جس سے کہ آنے والی نسلیں مستفید ھوں۔ سماجی انصاف کے حوالے سے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس پاکستان کے عدالتی اور پالیسی میکنگ نظام پر سوالیہ نشان نظر آتی ہیں۔ لہذا تھانہ کلچر میں تبدیلی،  امیر اور غریب کیلئے مساوی قانون پاکستانی عوام کی دیرینہ خواہش رھی ھے۔جس طرح عدالتوں میں نسل در نسل چلتے مقدمات اور ان کے حوالے سے انصاف کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ھے۔اسی طرح آزاد اظہارِ رائے پر پابندیاں! ہمیں ایک ایسا پاکستان درکار ہے جہاں ہر فرد، قطع نظر مذہب یا جنس کے، خود کو محفوظ اور آزاد تصور کرے۔ انسانی حقوق، بلخصوص مذہبی ہم آہنگی میں بہتری لانا اب عالمی ضرورت کے ساتھ ساتھ ہماری اخلاقی ذمہ داری بھی بن چکی ہے۔ جیسا کہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے عام آدمی کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے وہاں پاکستان کا ہر شہری صرف روٹی ہی نہیں بلکہ سانس لینے کے لیے صاف فضا اور پینے کے لیے صاف پانی کا تقاضا بھی کر رہا ھے۔ عالمی سطح پر جہاں پاکستان کی عسکری قیادت کو تسلیم کیا جا رہا ہے وہاں اس کا حقیقی ثمر بھی تبھی ملے گا جب حکمرانوں کو سیاسی رسہ کشیوں سے نکل کر ملکی استحکام کیلئے کچھ سوچ آئے گی۔ پچھلے 75 سالوں سے مہنگائی، بیروزگاری، اور افراتفری جیسی سنگین صورتحال نے ہمیشہ غربت کی چکی میں پسی ہوئی عوام کا ہی نقصان کیا ہے۔ لہذا ریاست کو چاہئے کہ  معاشی پالیسیوں کا رخ پاکستان کا خون چوسنے والوں کی بجائے غریب عوام کی بنیادی زندگی کی جانب مبذول رکھیں، درست سمت کے تعین  اور قومی مفاد کو مقدم سمجھنے سے ھی ترقی حاصل ہوگی۔ ایک پردیسی کا خط اس دعا کے ساتھ کہ رواں سال ہمیشہ کی طرح محض ایک ڈراؤنا خواب نہیں بلکہ ایک سہانی تعبیر ثابت ہو اور جانے کے بعد حسین یادیں چھوڑ کر جائے "آمین"