شادی سے انکار عورت کا بنیادی حق ہے، اسے قتل کا جواز نہیں بنایاجاسکتا:سپریم کورٹ

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے  میں قرار دیا ہے  شادی سے انکار عورت کا بنیادی حق ہے، اسے قتل کا جواز نہیں بنایاجاسکتا۔فیصلہ جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے تحریر کیا ہے۔عدالت نے آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت دائر مجرم محمد کامران کی نظرثانی درخواست خارج کردی۔ فیصلے میں سزائے موت کے قیدیوں کی سزا میں تبدیلی سے متعلق قانونی اصولوں کی بھی وضاحت کی گئی۔ سپریم کورٹ کے مطابق محض 14 یا 15 سال قید گزار لینے سے سزائے موت کے مجرم کو سزا میں کمی یا تبدیلی کا خودکار حق حاصل نہیں ہوتا۔فیصلے کے مطابق اصولِ متوقع عمر کے تحت رعایت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 25 سال قید مکمل کرنے کے ساتھ دیگر قانونی شرائط پوری کرنا بھی ضروری ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ طویل عرصے تک قید میں رہنے کا اصول ہر سزائے موت کے مجرم پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتا اور اس بنیاد پر خودکار ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔عدالت عظمیٰ نے شادی سے انکار پر خاتون میمونہ شاہین کو قتل کرنے والے مجرم محمد کامران کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے نظرثانی درخواست مسترد کردی۔عدالت نے قرار دیا کہ شادی سے انکار عورت کا بنیادی حق ہے اور اسے قتل کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ نظرثانی درخواست میں سابقہ فیصلے کے اندر کوئی واضح قانونی غلطی ثابت نہیں کی جاسکی، اس لیے مجرم کو ریلیف دینے کی بنیاد موجود نہیں۔