انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نائٹ کلب تنازع میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بعد شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں، جبکہ ان کی کپتانی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بین اسٹوکس نے ساتھی کھلاڑی گس ایٹکنسن کے ساتھ ٹیم کرفیو کی خلاف ورزی کی اور چیلسی کے ایک نائٹ کلب میں ایک رگبی کھلاڑی سے جھگڑے میں بھی الجھ گئے۔انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یا تو اسٹوکس کو کپتانی سے ہٹایا جا سکتا ہے یا وہ خود ذمہ داری چھوڑ سکتے ہیں۔یہ واقعہ نیوزی لینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں 115 رنز سے فتح کے بعد پیر کی علی الصبح پیش آیا، جب کھلاڑی چیلسی کے نائٹ کلب میں موجود تھے۔
بتایا گیا ہے کہ جھگڑے میں سرسینز رگبی کلب کے 21 سالہ کھلاڑی توتوآ اوورا بھی شامل تھے، جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ سیزن کے اختتام پر جشن منا رہے تھے۔یہ پہلا موقع نہیں کہ بین اسٹوکس کسی ایسے تنازع میں آئے ہوں۔ 2017 میں بھی وہ نائٹ کلب کے باہر ایک جھگڑے میں ملوث رہے تھے، جس کے بعد ان پر جرمانہ اور پابندی عائد کی گئی تھی۔ گزشتہ برس بھی ایسے واقعات کے بعد ٹیم پر کرفیو جیسی پابندیاں لگائی گئی تھیں۔انگلش بورڈ کی تحقیقات کے نتائج آنے کے بعد اس معاملے پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔