پاکستان کی ڈرامہ رائٹر زنجبیل عاصم شاہ نے اپنی زندگی کے انتہائی جذباتی اور ذاتی پہلوؤں سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ بچپن میں نہ صرف گود لی گئی تھیں بلکہ اپنی زندگی کے سب سے بڑے سہارے، اپنے شوہر کو، کینسر کے باعث کھو چکی ہیں۔
زنجبیل عاصم شاہ، جو گزشتہ دہائی کی کامیاب ترین مصنفات میں شامل ہیں، اپنی کہانیوں کے ذریعے معاشرتی حساسیت اور انسانی جذبات کو خوبصورتی سے پیش کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی زندگی، شادی اور جدوجہد کے بارے میں کھل کر بات کی۔انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق حیدرآباد سے ہے، اور بچپن میں والد کا انتقال ہو جانے کے بعد ایک رشتہ دار خاتون، جنہیں امّاں کہتی ہیں، نے انہیں پالا۔ بڑے خاندان میں پرورش پانے کے بعد، جب وہ نوجوان ہوئیں، تو انہیں اپنی حیاتی ماں کے ساتھ رہنا پڑا، جس کے ساتھ ایڈجسٹ کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا۔زنجبیل کا کہنا ہے کہ آٹھویں جماعت تک وہ ایک سست اور لاپرواہ طالبہ تھیں کیونکہ انہیں نرمی اور پیار کے ساتھ بڑی کیا گیا تھا، لیکن آٹھویں کے بعد انہوں نے تعلیم اور زندگی کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا۔ 21 سال کی عمر میں ان کی شادی ہوئی، اور انہوں نے اپنے شوہر کو ایک محبت کرنے والا، بااعتماد اور سپورٹ دینے والا شخص قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ آج جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں، تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ بہت کم عمر تھیں۔ 12 سالہ شادی اور دو بیٹیوں کے بعد، ان کے شوہر کو کینسر تشخیص ہوا اور کچھ ہی عرصے میں وفات پا گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر نے اپنی آخری سانسوں تک انہیں مضبوط بنایا اور دنیا کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا۔زنجبیل کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں گاڑی چلانا، جنریٹر ٹھیک کرنا اور چیک لکھنا سکھایا۔ ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک دن وہ گھر آئیں تو ایک ڈرائیور نے سڑک پر عجیب نظروں سے دیکھا، جس پر انہوں نے اپنے شوہر سے بات کی۔ شوہر نے کہا، "اسے گھور کر دیکھو، پیچھے مت ہٹو، ہمیشہ اپنے مقام پر ڈٹی رہو۔"انہوں نے کہا کہ شوہر کے یہی الفاظ آج بھی انہیں زندگی بھر کے لیے حوصلہ دیتے ہیں، اور انہوں نے زندگی کے ہر چیلنج کا مقابلہ ڈٹ کر کیا ہے۔