اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے معاملے پر ملاقات متوقع ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی سمیت مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمٰن کو ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے، جبکہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے ٹیلی فون پر جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا ہے۔ مجوزہ ملاقات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ان پر عائد لیوی کے عوام پر پڑنے والے اثرات پر گفتگو متوقع ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کے مطابق وزیراعظم اور حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان ملاقات میں پیٹرولیم لیوی کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ ملاقات آج ہوگی یا کل، اس حوالے سے حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ نعیم الرحمٰن اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ اس موقع پر پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے اور عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف دینے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
جماعت اسلامی کا پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ
جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹی پہلے ہی حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے کی تجویز دے چکی ہے۔ جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی محصولات عوام کے لیے مالی مشکلات بڑھا سکتے ہیں، اس لیے حکومت کو قیمتوں میں ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں۔مجوزہ ملاقات میں جماعت اسلامی کی جانب سے لیوی کے خاتمے کی تجویز اور اس کے ممکنہ اثرات پر بات چیت متوقع ہے۔ اس کے ساتھ یہ معاملہ بھی زیرِ غور آ سکتا ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے کیا اقدامات کر سکتی ہے اور ان کے لیے مالی وسائل کس طرح فراہم کیے جا سکتے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش کی ترسیل اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اسی لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی یا خاتمے سے متعلق کسی بھی حکومتی فیصلے کو عوامی اخراجات اور سرکاری محصولات دونوں کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
لانگ مارچ مؤخر کرنے کے بعد اہم پیش رفت
واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے رابطے اور ملاقات کی دعوت کے بعد جماعت اسلامی نے مارچ مؤخر کر دیا تھا۔اب وزیراعظم اور حافظ نعیم الرحمٰن کے درمیان متوقع ملاقات کو اس معاملے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان بات چیت کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ملاقات میں جماعت اسلامی اپنے مطالبات پیش کر سکتی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔