امریکا میں خوردہ سطح پر پٹرول کی اوسط قیمت اپریل کے وسط کے بعد پہلی بار چار ڈالر فی گیلن سے نیچے آ گئی ہے، جس کی بڑی وجہ عالمی تیل منڈی میں پیدا ہونے والی نرمی اور امریکا و ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمتی پیش رفت کو قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارےرائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً چار ماہ سے جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کے اعلان کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹس کے مطابق اس پیش رفت کے بعد پیر کے روز خام تیل کی قیمت میں چار ڈالر فی بیرل سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی، جبکہ مارکیٹ میں یہ توقع بھی مضبوط ہوئی کہ معاہدے کے نتیجے میں اہم بحری گزرگاہآبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکتی ہے، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ایندھن کی قیمتوں میں کمی کو امریکی معیشت اور سیاسی حلقوں کے لیے بھی مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ حکومت نے صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی کا وعدہ کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتیں امریکی حکومت اور ریپبلکن قانون سازوں کے لیے سیاسی دباؤ کا باعث بنی ہوئی تھیں۔مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ چار ڈالر فی گیلن کی سطح ایک نفسیاتی حد تصور کی جاتی ہے، جس سے اوپر جانے پر عام صارفین اپنے سفر اور ایندھن کے استعمال میں کمی شروع کر دیتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق GasBuddy کے مطابق اتوار کو امریکا میں پٹرول کی اوسط قیمت 3.997 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جو اپریل کے بعد پہلی بار چار ڈالر سے کم سطح ہے۔ تاہم یہ قیمت گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اب بھی تقریباً 91 سینٹ زیادہ ہے۔دوسری جانب American Automobile Association (AAA) کے مطابق پیر کو قومی اوسط قیمت 4.065 ڈالر فی گیلن ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں معمولی فرق موجود ہے۔توانائی کے تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق اصل امتحان اب آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور بحری راستوں کی مستقل بحالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں کمی برقرار رہتی ہے اور تیل کی ترسیل معمول پر آ جاتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔