امریکا میں پٹرول مہنگا، ایک ہفتے میں قیمت میں نمایاں اضافہ

امریکا میں پٹرول مہنگا، ایک ہفتے میں قیمت میں نمایاں اضافہ

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکا میں بھی پٹرول کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صارفین کے لیے پٹرول کی اوسط قیمت ایک ہفتے کے دوران 6 سینٹ فی گیلن اضافے کے بعد 3.88 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جو مئی کے وسط کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی، آئل ٹینکروں پر ممکنہ حملوں کے خدشات، روس اور امریکا میں بعض ریفائنریوں کو درپیش مسائل اور ایندھن کی سپلائی میں کمی نے عالمی تیل مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت میں بھی ہفتہ وار تقریباً 5.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی یا رکاوٹ کے عالمی توانائی منڈی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب امریکا میں پٹرول کے ذخائر میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے معاملے پر تیل کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔