طلعت بٹ
ماحول میں خوف کی فضا اور معاشی بحران کوئی اتفاقی نہیں اس کو ڈیزاین کیا گیا ہے بلکہ اس کو مسلط کیا گیا ہے۔یوں تو ہم زندہ ہیں مگر ہمارے معاشرتی مسائل اور نفسیات معاملات بڑے پیمانے پر ناقص ہیں۔جس معاشرے میں عوام کی روحانی اور رحمانی طاقت پر پابندی لگا دی جائے اور آزادی سے جینے کا حق چھین لیا جائے وہاں تبدیلی کی لہر اور انقلاب برپا ہوتا ہے ‘انسانی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کوئی انقلاب آتا ہے اس قوم میں جیالے اور جان نثار پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ فطرت کے اصول ہیں اس میں کسی حد تک انسان کا عمل دخل فقط آواز اٹھانے تک ہے باقی کا کام اس خطے کی مٹی کی تاثیر اور وہاں کے شہری خود تلاش کر لیتے ہیں بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ انسان نے آج تک جو کامیاب سفر طے کیا اس میں انسانی حقوق کے تحفظ اور اقدار کی حفاظت حضرت انسان کے کمالات بذات خود اسی کی مرہوں منٹ ہیں ہر سو ایک قوی اور صحت مند معاشرہ بنانے کے لئے محب وطن اور مخلص انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ گو کہ ترقی یافتہ قوموں میں ایک چیز قابل ذکر ہے کہ وہاں کی ماں بہن اور بیٹی نے اپنے خاندان میں جذبہ دوق پیدا کیا جس کی وجہ سے خاندانوں سے نکل کر قبیلوں میں انقلابی سوچ اور فکر جیسی صورتحال پیدا ہوتی رہی۔کوئی شخص بھی دنیا میں فضول پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک پرزے کی طرح اپنی جگہ پر کام کرتا ہے اور کاروبار حیات میں تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں۔آج جو حالت پاکستان کی ہے شاید ہی کسی دوسرے ملک کی ہو۔میرا مقصد تفتیش کرنا نہیں ہے بلکہ سوچنا ہے کہ اتنے پیارے دیس میں کیا ہو رہا ہے۔ میرے عزیز ہم وطن دوستو تھوڑا میرے قریب آ کر محسوس کریں کہ وطن کی تباہ شدہ حالت کس نے بنائی ہے۔کیا یہ کسی سیاسی جماعت نے یا پھر کسی مذہبی طاقت کی وجہ سے حالات زوال پذیر نظر آتے ہیں۔جہاں تک اس ملک کی حالت زار کا تعلق ہے تو یہ کہنا بجا ہو گا پاکستان کو سب اداروں اور بیرونی سازشی طاقتوں نے مل کر بگاڑا ہے۔کسی ایک شخص کی وجہ سے اتنا بڑا زوال کیسے ممکن ہے۔جسطرح پاک وطن سے سوتیلی ماں والا سلوک کیا گیا ہے اسی طرح اس عظیم الشان ملک پاکستان کو سنوارا بھی جا سکتا ہے۔کسی سے انتقام لینے کا نظریہ بلکل غلط ہو گا مگر جو کوئی بھی اس سازش میں شامل ہو گا اس سے پوچھ گیچھ کسی حد تک قانونی نقطہ ہے۔اب رہا سوال کہ کون کس سے اور کب یہ سب دریافت کرے گا تو اس کا طریقہ بہت آسان ہے۔ہر شخص اپنے ووٹ کا استمال سوچ سمجھ کر کرے تو بڑے آرام سے وہ ممبرز سامنے آ جاتے ہیں جو اس کشتی کو بھنور سے نکال سکتے ہیں۔پوری دنیا میں ہر ملک کو اسی کے لوگ ہی چلا رہے ہیں۔
اب میں چلتا ہوں اپنے لوگوں کی ضروریات کی طرف کیونکہ سب سے پہلے ہر انسان کی بنیادی ضرورت کھانا پینا اور لباس ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد دوسرے لوازمات کا ذکر ہوتا ہے۔بنیادی طور پر ہر شہری کو ان سہولیات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ان تمام سہولیات کو کس حد تک ارزاں ہونا چاہئے۔ یوں تو پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے مگر یہاں نہ تو جمہوریت اور نہ ہی اسلام دونوں کو نافظ نہیں ہونے دیا جاتا کیونکہ پاکستان کے ہر صوبے میں جو بھی حکومت بنی وہ خالص کاروباری طبقہ تھا جس کی وجہ سے ساری توجہ ان کے اساثوں اور محلّات پر مرکوز رہی۔یہ لوگ عوام کو رلیف دینے کی بجائے اپنی جیبیں بھرتے رہے۔یوں 75 سال گزر گئے اور اب جو
تشویشناک حالت ہے اس کو سیٹ کرنے کے لئے مزید عوامی چناؤ درکار ہو گا۔جو بگاڑ گزشتہ صدیوں میں پیدا ہو چکا ہے اس کو سیٹ کرنے کے لئے ہمیں اپنے لوگ ہی درکار ہوں گے مگر گزشتہ سالوں کی طرح لٹیرے اور جعلی سیاست دانوں کی کوئی ضرورت نہیں وہ شہری حکومت میں آئیں جو ملک سے محبت کرتے ہوں۔جن کو اپنے ملک میں دلچسپی ہو ملک کو ترقی کی راہ پر لے کر آگے نکلیں۔دوسرے ملکوں سے تجارت کریں اپنے ملک میں انڈسٹری لگائیں۔کاشتکاری میں انویسٹ کریں اور یورپ سے تجارت کریں ملک ایک سال میں خوشحال ہو جائے گا۔کسی بھی ملک کا دارومدار اس کی انڈسٹری یا کاشت پر ہوتا ہے خوش قسمتی سے ہم تو دونوں صنفوں میں بڑے پیمانے پر ترقی کر سکتے ہیں۔جب ہمارے سیاسی حالات ناقص ہوں ہے تو ترقی بھی رک جائے گی ظاہر ہے صنعت کا پہیہ جام ہو جائے تو ملک میں فاقوں تک نوبت آ جاتی ہے اب بھی اگر سیاسی جماعتوں میں اتفاق ہو اور اعلی ظرف کی سیاسی قیادت ملک سنمبھال لے تو ساری کمی پوری ہو جائے گی۔جہاں تک پاکستان میں افراتفری کا تعلق ہے تو جب حقیقی عوامی سیاسی نیشنل ٹیم حکومت میں آئے گی تو سارے بگڑے ہوئے سلسلے سیٹ ہو جایئں گے۔جس طرح ملک زوال پذیر ہے اسی طرح اس پر کام کرنا ہوگا پاکستان معدنی دولت سے مالا مال ہے کسی بھی قسم کا خوف نہیں کہ ہماری معشیت کیسے درست ہو گی۔اتنی بڑی تعداد جس میں ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد بھی شامل ہوں تو پھر کامیابی کو کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ہمیں محنت کرنی ہو گی اور اپنی جوسن نسل کو وقت کی ضرورت کے مطابق training دینی ہو گی۔ہمارے ملک میں نیچرل سورسز کی کمی نہیں اگر قدرتی وسایل کو بروئے کار لایا جائے تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔دیگر یہ کہ شدت پسند تحریکوں کو روکا جائے اور اس تخریب کاری میں جو بھی ملوث ہو اس کو عدالتوں کے ذریعے نکیل ڈالی جائے۔اب میں آتا ہوں عدلیہ کی طرف کتنا دکھ ہوتا ہے کہ پورے پاکستان میں کسی صوبہ میں بھی عدالتیں ٹھیک طور پر کام نہیں کر رہیں جب عدالت میں انصاف ناپید ہوتو پھر وہاں مجرم راج کرتے ہیں عوام کے حصے کا انصاف بک جاتا ہے اور کوئی مجرم خرید لیتا ہے۔اپنی عدلیہ کو مضبوط بنانے کے لئے وکیل اور دیگر متعلقہ جج و چیف جسٹس انصاف مہیا کرنے کے لئے کوشش کریں تو چند دنوں میں عدلیہ کا وقار بحال ہو سکتا ہے۔آخری الفاظ میں ایک ضروری چیز جو بہت ہی اہم ہے وہ یہ کہ ہر بندہ انفرادی طور پر اپنی ذات میں تبدیلی لائے تو یہ ملک پہلے کی طرح جنت کا نظارہ پیش کر سکتا ہے اگلے کالم میں مزید کچھ نیا ریکارڈ کرواؤں گا میرے اگلے لیٹر کا انتظار کریں۔