رحمت علی
کسی بھی ریاست اور معاشرے کی اصل پہچان اس کی سڑکوں، عمارتوں یا ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور محروم طبقات کو کس قدر عزت، برابری اور مواقع فراہم کرتا ہے۔ معذور افراد بھی اسی معاشرے کا قابلِ احترام، باصلاحیت اور فعال حصہ ہیں۔ ان کے خواب، ان کی محنت، ان کی ذہانت اور ان کا عزم کسی طور کم تر نہیں۔ اگر ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل ہے تو وہ معذوری نہیں بلکہ امتیازی رویّے اور غیر مساوی نظام ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معذوری انسان کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کرتی۔ تاریخ اور موجودہ دور اس امر کے گواہ ہیں کہ معذور افراد نے تعلیم، تحقیق، ادب، سرکاری خدمات، کاروبار اور دیگر شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشرہ انہیں مساوی مواقع فراہم کرنے کے بجائے ترحم یا نظرانداز کرنے کا رویّہ اختیار کرتا ہے۔
اصل رکاوٹ وہیل چیئر یا سفید چھڑی نہیں۔ اصل رکاوٹ وہ سوچ ہے جو معذور فرد کو کمزور یا محتاج سمجھتی ہے۔ جب سرکاری و نجی عمارات قابلِ رسائی نہ ہوں، جب تعلیمی اداروں میں جامع تعلیم کا نظام مؤثر نہ ہو، جب امتحانات میں مناسب سہولیات میسر نہ ہوں اور جب ملازمتوں میں برابری کی بنیاد پر مواقع فراہم نہ کیے جائیں تو یہ سب عوامل مل کر معذور افراد کو عملی زندگی میں پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ معذوری کو ہمدردی یا خیرات کے زاویے سے نہیں بلکہ حقوق کے تناظر میں دیکھا جائے۔ معذور افراد کو خصوصی رعایت نہیں بلکہ مساوی اور منصفانہ مواقع درکار ہیں۔ ریاستی اداروں، تعلیمی نظام، بلدیاتی ڈھانچے اور نجی شعبے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماحول کو قابلِ رسائی بنائیں، پالیسی سازی میں شمولیت کو یقینی بنائیں اور ترقی کے تمام مراحل میں برابری کا اصول اپنائیں۔
معاشی نقط? نظر سے بھی معذور افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ جو معاشرہ اپنی افرادی قوت کے کسی حصے کو نظرانداز کرتا ہے وہ دراصل اپنی مجموعی ترقی کو محدود کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس، جب ہر فرد کی صلاحیت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور اسے بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو معاشرہ مضبوط، خود کفیل اور متوازن بنتا ہے۔
آج ہمیں اپنے اجتماعی رویّوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ منفی سوچ کو مثبت فکر میں بدلنا ہوگا، تعصبات کو شعور اور آگاہی سے ختم کرنا ہوگا اور عملی اقدامات کے ذریعے رسائی اور شمولیت کو یقینی بنانا ہوگا۔ جامع تعلیم، مساوی روزگار اور باوقار شرکت ہی وہ ستون ہیں جن پر ایک حقیقی فلاحی اور منصفانہ معاشرہ استوار ہو سکتا ہے۔
صلاحیت ہر فرد میں موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مواقع بھی ہر فرد کو یکساں فراہم کیے جائیں۔ جب امتیازی سلوک کا خاتمہ ہوگا تو نہ صرف معذور افراد بلکہ پورا معاشرہ ترقی کی نئی منازل طے کرے گا، اور یہی ایک باوقار، منصف اور باشعور ریاست کی حقیقی پہچان ہے۔