اصلاحات میں پنشن کا حساب لگانے کا نظر ثانی شدہ فارمولا، قبل از وقت ریٹائرمنٹ پر جرمانہ شامل
متعدد پنشنوں کا خاتمہ، فیملی پنشن نظام میں تبدیلی ‘مستقبل میں اضافے کے طریقہ کار وغیرہ بھی شامل ہیں
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی حکومت نے پنشن اخراجات 1000 ارب روپے سے متجاوز ہونے پر فوری اصلاحات کے نفاذ پر غور شروع کردیا ۔میڈیارپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اس وقت سول اداروں کے پنشنرز کو 260 ارب روپے اور مسلح افواج کے پنشنرز کو 750 ارب روپے کی پنشن ادا کررہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت تمام محکموں میں ریٹائرمنٹ کی عمر کو مرحلہ وار کم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ علیحدگی کے اخراجات میں ابتدائی اضافے کا انتظام کیا جا سکے، پبلک سیکٹر کارپوریشنز، ریگولیٹری اتھارٹیز اور پروفیشنل کونسلز کو ہدایت کی جائے گی کہ وہ ریٹائرمنٹ کی عمر میں اسی طرح کی کٹوتی کریں، متعلقہ ادارے وفاقی وسائل پر انحصار کیے بغیر ان اصلاحات کی مالی لاگت کا انتظام کریں گے۔اس کے علاوہ بھی گزشتہ چند سالوں میں وفاقی حکومت نے کئی پنشن اصلاحات نافذ کی ہیں، جن میں سب سے قابل ذکر رواں مالی سال سے نئے سول سرکاری ملازمین اور اگلے مالی سال سے نئی فوجی بھرتیوں کے لیے کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ سکیم ہے، جس میں وفاقی ملازمین اپنی بنیادی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ ڈالیں گے اور حکومت فنڈ میں 20 فیصد حصہ ڈالے گی، حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اصلاحات میں پنشن کا حساب لگانے کا نظر ثانی شدہ فارمولا، قبل از وقت رضاکارانہ ریٹائرمنٹ پر جرمانے، متعدد پنشنوں کا خاتمہ، فیملی پنشن کے نظام میں تبدیلی اور مستقبل میں اضافے کے طریقہ کار وغیرہ شامل ہیں۔