مغل بادشاہ اکبر کی جائے پیدائش امر کوٹ سندھ کا قیمتی ا ثاثہ

مسرور ا حمدمسر ور

صوبہ سندھ کا ضلع عمر کوٹ جو کبھی امر کوٹ ہوا کرتا تھا کا شمار سندھ کے قابل ذکر شہروں میں ہوتا ہے۔ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کی جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے اس شہر کی تاریخی اہمیت دوسرے شہروں کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے اس کے علاوہ قدیم امر کوٹ قلعے کی موجودگی نے بھی عمر کوٹ کی تاریخی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ عمر ماروی کی سچی لوک داستان بھی عمر کوٹ کی پہچان مانی جاتی ہے، علاوہ ازیں کئی اور تاریخی مقامات عمر کوٹ میں واقع ہیں جو اس شہر کی تاریخی حیثیت کو استحکام بخشتے ہیں۔ مغل دور حکومت اور برطانوی راج کے دوران عمر کوٹ کو بہت نمایاں مقام حاصل تھا، عمر کوٹ جب امر کوٹ ہوا کرتا تھا اس وقت یہ گریٹر سندھ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا اور اس گریٹر سندھ میں موجودہ بھارتی ریاست راجستھان کے کچھ علاقے بھی شامل تھے، اس وقت صوبے پر سوڈھا راجپوت خاندان کی حکمرانی تھی۔ رانا پرساد صوبے کے حکمران تھے جنھوں نے شہنشاہ ہمایوں کو شیرشاہ سوری کی فوجوں کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد عمر کوٹ میں پناہ دی، وہ یہاں سات مہینے رہے اور اسی عرصے میں ہمایوں بادشاہ کی بیوی حمیدہ بانو نے 15 اکتوبر 1542کو اکبر کو جنم دیا، جو بعد میں مغلیہ سلطنت کا بادشاہ بنا۔
عمر کوٹ کے حکمران رانا پرساد سنگھ سوڈھا نے اپنی رعایا کو بتایا کہ ہمایوں ایک شکست خوردہ بادشاہ ہیں لیکن وہ ایک بادشاہ ہیں اور ان کی ہر طرح سے عزت افزائی کرنا ہمارا فرض ہے۔
جب عمر کوٹ میں اکبر کی پیدائش ہوئی تو مغل بادشاہ ہمایوں بہت مشکل حالات میں تھے اور وہ اپنے ہونے والے بیٹے  کی خوشیوں کو شاہانہ انداز سے منانے کی پوزیشن میں نہ تھے البتہ انھوں نے اس موقع پر اپنی اس خوشی کو منانے کے لیے اپنے پاس رکھی ہوئی خوشبو (MUSK) کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے خیر خواہوں میں بانٹ دیا، اس خواہش اور دعا کے ساتھ کہ اس کے بیٹے کی شہرت MUSK خوشبو کی طرح چار سُو پھیلے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ عمر کوٹ میں پیدا ہونے والے بچے اکبر نے سلطنت مغلیہ کے بادشاہ کی حیثیت سے بے پناہ شہرت حاصل کی۔
قلعہ امر کوٹ یا عمر کوٹ۔۔۔۔؟
عمر کوٹ کا تاریخی قلعہ شہر کے وسط میں واقع ہے جس کی ایک طویل تاریخی داستان ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قلعہ تقریباً آٹھ سو سال پرانا ہے جبکہ کچھ مؤرخین کا کہنا ہے کہ یہ قلعہ ایک ہزار سال سے بھی پہلے کا ہے۔ سلطنت ہند کے بادشاہ اکبر جلال الدین بھی اسی قلعے میں پیدا ہوئے۔ عمر کوٹ کا قلعہ اس وقت کے حکمران رانا امر سنگھ نے تعمیر کروایا تھا اور قلعے کا نام قلعہ امر سنگھ ان کے نام سے منسوب تھا، بعد میں سومرو خاندان کی حکمرانی قائم ہوئی اور عمر سومرو حکمران بنے تو امر کوٹ کو تبدیل کرکے عمر کوٹ کر دیا گیا لیکن آج بھی ہندو اسے امر کوٹ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ قلعہ 1020 عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا، یہ قلعہ 17 ایکڑ رقبے پر محیط ہے، اس کی دیواریں 14 فٹ موٹی ہیں۔
عمر کوٹ کا موجودہ قلعہ اتنا پرانا نہیں ہے اور یہ قلعہ قدیم قلعے کی جگہ پر تعمیر کیا گیا، اسے تعمیر کروانے والے میاں نور محمد کلہوڑو تھے جنھوں نے 1746 میں یہ قلعہ تعمیر کروایا، اس کا مرکزی داخلی دروازہ شاہی دروازہ کہلاتا ہے جس کے ساتھ ایک بڑا برج ہے۔ واچ ٹاور تک پہنچنے کے لیے زینے بنائے گئے ہیں۔
عمر کوٹ کا تاریخی قلعہ سندھ کا ایک قیمتی تاریخی اثاثہ ہے جس کو اپنی اصل حالت میں بحال رکھنے کی اشد ضرورت ہے لیکن صوبائی حکومت اور محکمہ آثار قدیمہ کے حکام کا غیر سنجیدہ رویہ اس قلعے کو تباہی کی طرف لے جانے کی نشان دہی کرتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تاریخی اثاثہ مر رہا ہے، اسے بچانے کی ضرورت ہے۔
اس قلعے کے مرکزی دروازے پر جو بڑے بڑے مضبوط برج بنے ہوئے ہیں اس پر گھوڑے کے سموں کے کچھ نشانات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں جو ایک ہندو رہنما رانا رتن سنگھ سوڈھا کے گھوڑے نے بے قابو ہو کر دیواروں پر ثبت کیے تھے۔ رانا رتن سنگھ نے برطانوی دور میں عوام کے حقوق کے لیے بغاوت کا علَم بلند کیا اور بغاوت کے الزام میں 1850 میں پھانسی کی سزا کا مرتکب ٹھہرے، جس وقت رانا رتن سنگھ کو قلعے میں پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو گھوڑے نے اس صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے قلعے کے دروازے پر بدک کر پاؤں مارے، جس کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔ رانا رتن سنگھ کو پھانسی چڑھائے جانے کے چند منٹوں بعد اس گھوڑے نے بھی جان دے دی۔
قلعے کا مرکزی دروازہ جو شاہی دروازہ کہلاتا ہے اس پر ایک محراب سی بنی ہے اور برج بنے ہوئے ہیں، یہ سب ریتیلی مٹی اور پتھر سے تعمیر کیے گئے ہیں۔ شاہی دروازہ مشرقی دیوار کے وسط میں واقع ہے، ان برجوں اور دیواروں میں ایک ایسا سسٹم موجود ہے جس کے ذریعے حملہ آور ہونے والی فوجوں پر گرم پانی یا پگھلا ہوا سیسہ پھینکا جا سکے۔
عمر کوٹ کا یہ تاریخی قلعہ ایک قیمتی اثاثہ ہے، اگر اس طرف صوبائی حکومت کے ذمے داروں نے توجہ نہیں دی تو ہم ایک قیمتی اثاثے سے محروم ہو جائیں گے۔ یہ تاریخی قلعہ کھنڈرات میں تبدیل ہو جائے گا اور آنے والی نسلیں اس اثاثے کو دیکھنے سے محروم رہیں گی۔ اس مرتے ہوئے اثاثے کو بچانے کی ضرورت ہے، کون بچائے گا اور کب بچائے گا یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
عمر ماروی کی سچی لوک کہانی کا تعلق عمر کوٹ قلعے سے تھا، جس دور میں عمر سومرو سندھ کے صوبے کا حکمران تھا، اس وقت اس نے ایک کنوئیں پر ایک خوب صورت دوشیزہ کو پانی بھرتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور وہ اس پر مَر مٹا تھا۔ عمر سومرو اس حسین تھاری لڑکی کو اغوا کرکے اپنے قلعے میں لے گیا اور اسے شادی کی پیش کش کی، جسے اس خوب صورت لڑکی جس کا نام ’’ماروی‘‘ تھا نے ٹھکرا دیا۔ عمر سومرو نے بار بار شادی کے لیے زور دیا اور ماروی بار بار شادی کی پیشکش کو ٹھکراتی رہی، عمر سومرو نے کافی عرصہ ماروی کو عمر کوٹ قلعے میں بند رکھا، وہ اپنی ذات میں ایک مضبوط اور بہادر لڑکی تھی اور وہ بار بار عمر سومرو کی شادی کی درخواست کا انکار میں جواب دیتی رہی۔ بالآخر عمر سومرو کو اپنی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے اور وہ ماروی کو بہن بنانے پر مجبور ہو گیا اور اسے آزاد کر دیا۔ ماروی کے نام سے ضلع تھرپارکر میں وہ کنواں آج بھی موجود ہے اور لوگ یہاں آ کر منت مانگتے ہیں۔ علاقے کے لوگ ماروی کو ایک باہمت مثالی لڑکی کی علامت بنا کر اپنی لڑکیوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، اس کنوئیں کے پاس علاقائی لوک گلوکار وہ کلام پیش کرتے ہیں جس میں ماروی کا ذکر موجود ہو۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی کا صوفیانہ کلام جس میں ماروی کا ذکر ہو گلوکار پیش کرتے ہیں۔ جو وہاں آنے والے لوگ پوری دلچسپی کے ساتھ سنتے ہیں۔
قلعہ عمر کوٹ کا تاریخی میوزیم
عمر کوٹ قلعے میں ایک میوزیم بھی ہے جو تین گیلریوں پر مشتمل ہے۔ میوزیم میں قدیم نایاب کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ پرانے اسلحے کا سامان بھی تاریخی نوعیت کا ہے، کئی سو سال پرانی توپیں بھی قلعے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ نایاب قلمی نسخے بھی میوزیم میں اہم بتائے جاتے ہیں۔ مختلف جنگوں سے متعلق تصاویر آویزاں کی گئی ہیں، ایک پرانا میوزیم ہے اور ایک اور میوزیم بھی موجود ہے جس کا افتتاح 1968 میں ہوا تھا۔ بڑے بڑے اسکالرز اور سیاح حضرات اس میوزیم میں رکھے گئے تاریخی مواد سے مستفیض ہوتے ہیں۔ مندروں سے لائے گئے مجسمے بھی کھے گئے ہیں، پینٹنگز بھی آویزاں کی گئی ہیں جو میوزیم کی تاریخی اہمیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ قدیم زمانے کی جیولری بھی یہاں آنے والی خواتین کی دلچسپی کا باعث ہوتی ہے۔ مغل بادشاہ اکبر اور دوسری متعلقہ لوگوں کی تصاویر بھی میوزیم کا حصہ ہیں۔
قلعہ عمر کوٹ میں
1843 میں جب ہندوستان میں برطانوی دور حکمرانی تھا تو اس وقت عمر کوٹ پر انگریزوں نے قبضہ کیا اور عمر کوٹ قلعے کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنایا۔ اسی دور میں ایک سرکٹ ہاؤس کی تعمیر بھی مکمل ہوئی۔ یہ 1877 کی بات ہے، یہاں مختلف دفاتر قائم کیے گئے۔ آج بھی سرکٹ ہاؤس میں دفاتر موجود ہیں، اس کے علاوہ ایک انگریز ڈپٹی کمشنر ایڈورڈ واٹسن کی قبر یادگار کے طور پر موجود ہے جو تھرپارکر کے ڈپٹی کمشنر تھے اور وہاں کے لوگوں میں بہت مقبول تھے۔