پاکستان: امن کا بادشاہ

شہزاد  راجپوت
عالمی سیاست کے افق پر جب بھی کشیدگی کے بادل منڈلاتے ہیں، جب طاقت کے ایوانوں میں جنگ کے نقارے بجنے لگتے ہیں اور جب انسانیت ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر کھڑی نظر آتی ہے، تب کچھ قومیں اپنے کردار سے تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں۔ پاکستان انہی قوموں میں شامل ہے۔ایک ایسا ملک جو نہ صرف اپنے دفاع کا ہنر جانتا ہے بلکہ امن قائم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ حالیہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جنگی خطرات کے تناظر میں پاکستان کا کردار ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کوئی نیا نہیںبلکہ دہائیوں پر محیط بداعتمادی، سیاسی اختلافات اور جغرافیائی مفادات کا ایک پیچیدہ جال ہے تاہم حالیہ حالات میں جب یہ کشیدگی براہ راست عسکری تصادم کی صورت اختیار کرنے لگی تو دنیا بھر میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی۔ تیل کی گزرگاہیں، مشرق وسطیٰ کا استحکام، عالمی معیشت اور سب سے بڑھ کر انسانی جانوں کا تحفظ یہ سب خطرے میں پڑ گئے تھے۔ایسے نازک موقع پر پاکستان نے اپنی روایتی حکمت، تدبر اور متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک پل کا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے نہایت دانشمندی سے دونوں فریقین کے ساتھ بیک ڈور ڈپلومیسی، رابطوں اور ثالثی کے ذریعے کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو یہ باور کرایا کہ وہ محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عالمی کردار ہے۔پاکستان کی کوششوں کا نتیجہ بالآخر ایک سیز فائر (جنگ بندی) کی صورت میں سامنے آیا۔ایک ایسا فیصلہ جس نے نہ صرف فوری جنگ کے خطرے کو ٹال دیا بلکہ خطے کو ایک ممکنہ تباہی سے بھی بچا لیا۔ اس جنگ بندی کے پیچھے کارفرما قوتوں میں پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ وہ کامیابی ہے جو توپ و تفنگ سے نہیں بلکہ عقل، صبر اور مکالمے سے حاصل ہوئی۔پاکستان کا یہ کردار اس کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی اصول کی عکاسی کرتا ہے جس میں امن کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔ یہی سوچ اسے دیگر ممالک سے ممتاز بناتی ہے۔ ایران جیسے برادر اسلامی ملک کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکہ جیسے عالمی طاقت کے ساتھ سفارتی روابط۔پاکستان نے دونوں کے درمیان توازن برقرار رکھتے ہوئے ایک مثالی کردار ادا کیا۔یہ بھی حقیقت ہے  پاکستان خود دہشت گردی اور عدم استحکام کا شکار رہا ہے اور اسی تجربے نے اسے امن کی قدر سکھائی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان جنگ کی ہولناکیوں کو صرف نظریاتی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر بھی سمجھتا ہے اور اسی لیے وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ دنیا کو اس آگ سے محفوظ رکھا جائے۔ایران اور امریکہ سیز فائر میں پاکستان کا کردار دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سیاست میں نرم قوت (Soft Power) کی اہمیت کتنی بڑھ چکی ہے۔ جہاں بڑی طاقتیں اپنی فوجی برتری پر انحصار کرتی ہیںوہیں پاکستان نے سفارت کاری، اعتماد سازی اور غیرجانبداری کے ذریعے ایک ایسا راستہ نکالا جو سب کے لیے قابل قبول ثابت ہواتاہم یہ کامیابی ایک ذمہ داری بھی ہے۔ پاکستان کو مستقبل میں بھی اسی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور سیاسی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے اس مثبت کردار کو مزید مؤثر انداز میں جاری رکھ سکے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ پاکستان واقعی "امن کا بادشاہ" ہے۔ایک ایسا بادشاہ جو جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ امن کے ایوانوں میں اپنی حکمرانی قائم کرتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی میں اس کا کردار تاریخ کے سنہری صفحات میں درج ہو چکا ہے اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور حکمت عملی درست ہو تو دنیا کے بڑے سے بڑا تنازع بھی پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔